ہماچل پردیش حکومت بیوروکریسی کے سامنے لاچار: کانگریس

بیوروکریسی کے مابین سرد جنگ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کلدیپ راٹھور نے کہا کہ ریاستی حکومت کی حکمرانی مکمل طور پرزمیں بوس ہوچکی ہے۔ آئے دن وزیر اعلی کو اپنے احکامات اور فیصلے تبدیل کرنے پڑتے ہیں۔

کلدیپ سنگھ راٹھور، تصویر ٹوئٹر @KSRathoreINC
کلدیپ سنگھ راٹھور، تصویر ٹوئٹر @KSRathoreINC
user

یو این آئی

شملہ: پنچایتوں کے انتخابات کے اعلان کے بعد ہماچل پردیش میں کانگریس نے بی جے پی پر زوردار حملہ کیا ہے۔ ریاستی کانگریس کے صدر کلدیپ سنگھ راٹھور نے آج ایک بیان میں الزام لگایا کہ ریاستی حکومت بیوروکریسی کے سامنے مکمل طور پر لاچار ثابت ہو رہی ہے۔ افسران میں کشمکش عروج پر ہے۔ حکومت کی اس تین سالہ مدت میں وزیر اعلی جے رام ٹھاکر بیوروکریسی اور عوامی نمائندوں کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے میں آج تک مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی مفادات کے کام سرکاری فائلوں میں دفن کردیئے جاتے ہیں۔

راٹھور نے کہا کہ ریاست میں وکاس جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ بیوروکریسی کے مابین کوئی ہم آہنگی نہیں ہے۔ ہر ایک کا اپنا راگ اپنی ڈفلی ہے۔ چیف منسٹر کا دفتر سنگھ کا اڈا بن کر رہ گیا ہے جہاں صرف سنگھ سے وابستہ عہدیداران اور لیڈروں کی چلتی ہے۔ اس کے دروازے عام لوگوں کے لئے بند ہیں۔


بیوروکریسی کے مابین سرد جنگ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی حکمرانی مکمل طور پر زمیں بوس ہوچکی ہے۔ آئے دن وزیر اعلی کو اپنے احکامات اور فیصلے تبدیل کرنے پڑتے ہیں۔ کام کرنے والے افسران کی طرف توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ وزیر اعلی اپنی ناکامیوں کا ٹھیکرا افسران کے سر پھوڑ رہے ہیں۔ معیشت پوری طرح چوپٹ ہوچکی ہے۔ حکومت کی اس سمت کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔ بڑھتی بیروزگاری، مہنگائی پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی زرعی قانون سازی سے متعلق اپنا مؤقف واضح کریں، خاموشی سے کام نہیں چلے گا۔ ریاست کے کسان بھی ملک کے کسانوں کے ساتھ کھڑے ہیں، کیونکہ یہ قانون کسان اور باغبان مخالف ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔