ہماچل پردیش: اسمبلی میں مالی سال 27-2026 کے لیے 54928 کروڑ کا بجٹ پاس
بجٹ پاس کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’حکومت نے پہلی بار ریاست کی حقیقی مالی صورتحال کو عوام کے سامنے شفافیت کے ساتھ رکھا ہے اور مالیاتی نظم و ضبط پر عمل کرتے ہوئے بجٹ کے ہجم کو کم کیا گیا ہے۔‘‘

ہماچل پردیش اسمبلی میں 30 مارچ کو وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو نے مالی سال 27-2026 کے لیے 54928 کروڑ روپے کا بجٹ صوتی ووٹ سے پاس کر دیا ہے۔ بجٹ پاس کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’حکومت نے پہلی بار ریاست کی حقیقی مالی صورتحال کو عوام کے سامنے شفافیت کے ساتھ رکھا ہے اور مالیاتی نظم و ضبط پر عمل کرتے ہوئے بجٹ کے ہجم کو کم کیا گیا ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو کے مطابق رواں سال کا بجٹ 54928 کروڑ روپے کا ہے، جسے محدود وسائل کے باوجود متوازن طریقے سے تمام شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مرکز سے ملنے والی ریونیو ڈیفیسٹ گرانٹ (آر ڈی جی) میں کمی آئی ہے، جس کی وجہ سے ریاست کو اپنی اقتصادی حکمت عملی میں تبدیلی کرنی پری ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے بھروسہ دلایا ہے کہ حکومت پالیسی اصلاحات کے ذریعہ ریاست کو خود کفیل بنانے کی سمت میں کام کر رہی ہے اور عام آدمی و متوسط طبقہ پر کسی طرح کا اضافی بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ گزشتہ 3 سالوں میں لیے گئے فیصلوں سے مالیاتی نظام مضبوط ہوا ہے اور بدعنوانی پر لگام لگائی گئی ہے۔
ریاستی وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ محکمہ خزانہ کی میٹنگوں کا دور شروع ہو رہا ہے اور آئندہ کچھ دنوں میں مالی وسائل میں اضافے کے لیے نئے راستے کھولے جائیں گے، جبکہ بدعنوانی کے چور دروازوں کو بند کیا جائے گا۔ سکھویندر سنگھ سکھو نے یہ بھی واضح کیا کہ ریاست میں سرمایہ کاری کے اخراجات کو مستقبل میں بڑھایا جائے گا، جبکہ محصولات کے اخراجات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس میں تنخواہ اور پنشن جیسے اخراجات شامل ہیں۔
قرض کے حوالے سے ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ ایک مسلسل عمل ہے اور ریاست کی ’جی ایس ڈی پی‘ کی بنیاد پر ہی قرض لینے کی حد طے ہوتی ہے۔ ساتھ ہی مرکزی حکومت سے ملنے والے بلا سود قرض کے لیے ضروری اصلاحات بھی کی جائیں گی، تاکہ عوام پر بوجھ ڈالے بغیر وسائل اکٹھے کیے جا سکیں۔ انٹری ٹیکس کے تنازعہ پر سکھویندر سنگھ سکھو نے واضح کیا کہ یہ کوئی نیا ٹیکس نہیں ہے، بلکہ کئی سالوں سے نافذ ہے۔ چھوٹی گاڑیوں پر کوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالا گیا ہے، جبکہ بڑی گاڑیوں کے ٹیکس میں بھی منطقی ترمیم کے ذریعہ اسے کم کرنے پر حکومت غور کرے گی۔ پنشنرز کے احتجاج کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت ان کے احترام اور مفادات کے تئیں پرعزم ہے اور بجٹ کی حدود میں رہتے ہوئے پنشن کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے گا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔