از خود تنخواہ میں تخفیف کرنا وزیر اعلیٰ سکھوندر سکھو کا اہم قدم… اروند موہن

ہماچل پردیش کی مالی مشکلات کے پیش نظر سکھو نے اپنا، اپنے تمام وزرا، اراکین اسمبلی، انتظامی افسران اور پولیس افسران کی تنخواہوں میں کٹوتی کرنے اور 6 ماہ تک اسے مؤخر رکھنے کا فیصلہ کیا۔

<div class="paragraphs"><p>ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو/&nbsp;تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

اروند موہن

اسی 21 مارچ کو ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو نے ریاست کا سالانہ بجٹ پیش کرتے ہوئے ایک انقلابی قدم اٹھایا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس پر خاطر خواہ بحث نہیں ہوئی۔ شاید ایران-اسرائیل-امریکہ تنازعہ کی وجہ سے ایسا ہوا ہو۔ لیکن میڈیا، خاص طور سے پرنٹ میڈیا میں دیگر موضوعات کو تو خوب جگہ مل رہی ہے (جی ہاں، کرکٹ کا انڈین پریمیئر لیگ ٹورنامنٹ تو شروع ہونے سے پہلے ہی صفحات پر چھا گیا تھا۔ ہماچل بھی حال ہی میں کرکٹ مقابلوں کی میزبانی کے سبب خبروں میں رہا) جہاں منتظمین کے لیے ہوائی جہاز سے مرسڈیز ٹیکسیاں لائی گئیں، کیونکہ دھرمشالا جیسی چھوٹی جگہ میں ایسی ٹیکسیاں عام طور پر دستیاب نہیں ہوتیں۔ اتفاق سے کرکٹ انتظامیہ اس وقت بی جے پی رہنماؤں کے ہاتھ میں ہے، جبکہ سکھو صاحب کانگریس سے تعلق رکھتے ہیں۔

ریاست کی مالی مشکلات کے پیش نظر سکھو نے اپنا، اپنے تمام وزرا، اراکین اسمبلی، انتظامی افسران اور پولیس افسران کی تنخواہوں میں تخفیف کرنے اور 6 ماہ تک اسے مؤخر رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اراکین اسمبلی اور نچلے درجے کے افسران کی تنخواہوں میں 20 فیصد، جبکہ وزرا اور اعلیٰ افسران کی تنخواہوں میں 30 فیصد کمی کی گئی ہے۔ خود وزیر اعلیٰ نے اپنی تنخواہ میں 50 فیصد کمی کر دی ہے۔ تاہم چھوٹے ملازمین اور پنشن یافتگان کی تنخواہوں میں کوئی کٹوتی نہیں کی گئی۔ اب ہماچل میں معاشی ایمرجنسی ہے یا نہیں، یہ بحث کا موضوع ہو سکتا ہے، لیکن اس فیصلے پر اختلاف کم ہی ہے اور عمومی طور پر اس کی تعریف ہی کی گئی ہے۔ شکایت بس یہ ہے کہ اس پر زیادہ شور کیوں نہیں مچا۔


ہماچل اسمبلی میں اس پر بحث ہوئی، لیکن اپوزیشن لیڈر جے رام ٹھاکر کی تنقید بجٹ کے حجم میں کمی پر مرکوز رہی اور انہیں ریاستی معیشت کے کمزور ہونے کی فکر تھی۔ وزیر اعلیٰ بجٹ میں کمی کو مرکز سے ملنے والی تقریباً 8000 کروڑ روپے کی گرانٹ روکے جانے سے جوڑتے رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہماچل کی اس کٹوتی پر کرناٹک اسمبلی میں بھی بحث ہوئی، جہاں بی جے پی رکن وی سنیل کمار نے سبسڈی اور انتخابی مراعات پر بھاری خرچ کا حوالہ دیتے ہوئے ایسی ہی صورتحال کے خدشہ کا اظہار کیا۔

اسی تناظر میں وزیر اعلیٰ سکھو کا اٹھایا گیا قدم بہت اہم ہے۔ یہ ایک نئی شروعات ہے، جس میں انتخابی وعدوں پر خود اختیاری پابندی اور غریب و امیر ریاستوں کے طرز حکمرانی میں فرق پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ مصنف سمیت بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ ایسا تجربہ حکومت ہند کی سطح پر بھی دہرایا جانا چاہیے، کیونکہ دعووں کے باوجود ہم اب بھی ایک غریب ملک ہیں اور ہمیں ترقی یافتہ ممالک جیسا بے تحاشا خرچ نہیں کرنا چاہیے۔ ہزاروں کروڑ روپے کے خصوصی طیارے رکھنا امریکہ کے صدر کے لیے ممکن ہو سکتا ہے، لیکن ہمارے لیے یہ بوجھ ہے۔


اگر کوئی ملک یا ریاست غریب ہے تو کفایت شعاری کا بوجھ صرف عوام پر نہیں پڑنا چاہیے، بلکہ سب سے پہلے لیڈران کو اس کی مثال قائم کرنی چاہیے۔ انہیں اپنی تنخواہوں اور سہولتوں میں کمی کرنی چاہیے اور عوام کے پیسے سے عیش و عشرت سے گریز کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں ہماچل کے فیصلے کی پیروی کرتے ہوئے بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں کو آگے آنا چاہیے، جبکہ کانگریس اور بی جے پی جیسی پارٹیوں کو بھی اپنی حکومتوں کی فضول خرچی پر روک لگانی چاہیے۔

انتخابی وعدے کرتے وقت پارٹیاں اور لیڈران نہ صرف ان کے نتائج بھول جاتے ہیں بلکہ اپنے ملک یا ریاست کی معاشی حالت کا رونا بھی روتے ہیں، لیکن خرچ کم کرنے کے لیے قدم نہیں اٹھاتے۔ کئی چھوٹی ریاستوں کے پاس سرکاری طیاروں کے بیڑے ہیں، جنہیں لیڈران اور افسران بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ دوسری حکومتوں کی مالی مشکلات پر تو بات ہوتی ہے، لیکن اپنی باری آنے پر رویہ بدل جاتا ہے۔


آخر میں، اگرچہ ذاتی سادگی کی اپنی اہمیت ہے، لیکن سرکاری سطح پر کفایت شعاری ملک اور ریاست دونوں کے لیے کہیں زیادہ اہم ہے، اور اس کے لیے ہماچل کے اس قدم کو ایک مثال کے طور پر اپنانا چاہیے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔