چنئی سمیت کئی علاقوں میں شدید بارش، 2015 کے سیلاب کی یادیں تازہ

تاہم ریاست کے کئی اضلاع میں موسلادھار بارش کی پیشن گوئی کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے بتایا کہ منگل کوجنوب مشرقی خلیج بنگال میں کم دباؤ بننے سے بارش کا اثر کم ہونے کا امکان ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

چنئی: چنئی اور آس پاس کے علاقوں میں ہفتہ کی رات سے ہو رہی موسلادھار بارش کی وجہ سے سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اچانک ایسی صورتحال پیدا ہو جانے سے معمولات زندگی درہم برہم ہوگئی اور 2015 کی یادیں تازہ ہوگئیں۔ مختلف علاقوں میں ہفتہ کی رات 10 بجے سے آسمانی بجلی گرنے کے ساتھ بارش شروع ہو گئی۔ اتوار کی صبح 8:30 بجے تک 21.5 سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ مینمباکم ہوائی اڈے پر 12 سینٹی میٹر بارش ہوئی۔ معلومات کے مطابق 2015 کے بعد شہر میں ہفتہ کی رات کو سب سے زیادہ بارش ہوئی۔ بارش سے علاقوں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

تاہم ریاست کے کئی اضلاع میں موسلادھار بارش کی پیشن گوئی کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے بتایا کہ منگل کوجنوب مشرقی خلیج بنگال میں کم دباؤ بننے سے بارش کا اثر کم ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگلے چار دنوں میں اس کا اثر شمال مغرب سے شمال کی طرف بڑھنے کا امکان ہے۔ اگلے 48 گھنٹوں میں تمل ناڈو کے ساحلی علاقوں میں بارش کی پیشن گوئی کی گئی ہے۔


چنئی میں اتوار کو بھاری بارش کی پیشن گوئی کرتے ہوئے ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ موسلا دھار بارش کے بعد حکام نے چیمباکرامبکم اور پوزال آبی ذخائر سے 500 کیوسک پانی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ بارش اتنی تیز تھی کہ شہر اور دیگر علاقے زیرآب آگئے۔ شہر کی کئی اہم سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں۔ کئی گھروں میں پانی داخل ہونے سے معمولات زندگی متاثر ہو گئی۔

شہر کے کئی علاقوں میں گاڑیوں کی آمدورفت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ بارش کی وجہ سے کچھ درختوں کے اکھڑ جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ کئی علاقوں میں بجلی سپلائی اور انٹرنیٹ سروس بند ہونے سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس دوران ریاست کے جنوبی، وسطی اور کاویری ڈیلٹا اضلاع میں شدید بارش کی وجہ سے معمولات زندگی درہم برہم ہو گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔