مغربی یو پی کے گاؤں میں بی جے پی لیڈروں کا داخلہ محال، کسانوں میں شدید غصہ

بی جے پی لیڈروں کی مغربی یو پی میں کسانوں تک پہنچنے کی کوششیں ناکام ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ پارٹی نے لیڈروں سے کہا ہے کہ وہ کسانوں سے مل کر زرعی قوانین کے فائدے بتائیں، لیکن یہ ممکن نہیں ہو پا رہا۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

بی جے پی کے لیڈران اتر پردیش کے کسانوں سے ملاقات کر کے انھیں نئے زرعی قوانین کے فائدے سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اب مغربی اتر پردیش میں انھیں کسانوں تک پہنچنے میں دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بی جے پی نے اپنے لیڈروں سے کہا ہے کہ وہ کسانوں سے ملاقات کریں اور انھیں زرعی قوانین کے فوائد سے روشناس کرائیں، لیکن جگہ جگہ انھیں کسانوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پیر کے روز ہی مظفر نگر کے سورم گاؤں کا دورہ کرنے والے مرکزی وزیر سنجیو بالیان کو کسانوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس دوران پارٹی کارکنان و کسانوں میں تصادم بھی ہوا۔ حالانکہ بالیان کو ان کے سیکورٹی گارڈس کے ذریعہ بہ حفاظت گاؤں سے باہر نکال لیا گیا۔ اسی طرح آس پاس کے گاؤں میں بھی بی جے پی لیڈروں کے تئیں کسانوں میں شدید غصہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے سرکردہ رکن دھرمیندر ملک کا کہنا ہے کہ ’’جوالا کھاپ کے سربراہ سچن چودھری نے مرکزی وزیر سنجیو بالیان سے ملنے سے انکار کر دیا، جو وزیر داخلہ امت شاہ کے کہنے پر ان سے ملنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘‘ ایک ویڈیو پیغام میں سچن چودھری کو بھی یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’’برسراقتدار بی جے پی میں سے کوئی بھی نجی طور پر مجھ سے ملنے کی کوشش نہ کرے۔ انھیں سنیوکت کسان مورچہ سے ملاقات کرنی چاہیے اور تینوں زرعی قوانین کو لے کر ہو رہے مظاہرے کے بارے میں ان کا فیصلہ ہی آخری ہوگا۔‘‘

شاملی کے بھینساول سے سماجوادی پارٹی لیڈر سدھیر پوار کا کہنا ہے کہ ’’ہمیں جس کا شک تھا، وہی ہو رہا ہے۔ مغربی یو پی کے کسان ذات کی بنیاد پر تحریک میں پھوٹ ڈالنے کی بی جے پی کی کوششوں سے پریشان ہیں۔ جمہوریت میں ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی ہے، اس لیے کسی خاص پارٹی کے لیڈر کے داخلے پر پابندی لگانا جمہوری طریقہ تو نہیں ہے، لیکن لوگ ناراض ہیں۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ بھینساول 32 دیہی کھاپوں کا ہیڈکوارٹر ہے۔ 5 فروری کو زرعی قوانین کی مخالفت میں منعقد ’مہاپنچایت‘ میں جاٹوں کے ساتھ ساتھ دلت اور مسلمانوں کی شرکت بھی دیکھی گئی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 23 Feb 2021, 7:11 PM
پسندیدہ ترین
next