پاکستانی ہندو پناہ گزینوں کے لئے بجلی کنکشن پر 22 اکتوبرکو سماعت

چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس امت بنسل کی بنچ نے منگل کو مرکز، دہلی حکومت اور دیگر متعلقہ فریقوں کو 200 ہندو پناہ گزینوں کی ایک درخواست کی سماعت کے بعد جواب داخل کرنے کے لیے نوٹس جاری کیے۔

دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی
دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ 22 اکتوبر کو قومی دارالحکومت میں رہنے والے پاکستانی ہندو پناہ گزینوں کو بجلی کے کنکشن کی درخواست پر سماعت کرے گی۔ چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس امت بنسل کی بنچ نے منگل کو مرکز، دہلی حکومت اور دیگر متعلقہ فریقوں کو 200 ہندو پناہ گزینوں کی ایک درخواست کی سماعت کے بعد جواب داخل کرنے کے لیے نوٹس جاری کیے۔

عدالت نے مرکزی وزارت داخلہ، وزارت دفاع، شمالی دہلی کے ضلع افسران، شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن، ٹاٹا پاور دہلی ڈسٹری بیوشن لمیٹڈ اور دہلی الیکٹرک ریگولیٹری کمیشن کو جواب داخل کرنے کے لیے نوٹس جاری کیے ہیں۔ درخواست پر آئندہ سماعت 22 اکتوبر کو ہوگی۔


درخواست گزار ہری اوم کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل سمیکشا متل اور آکاش باجپئی نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان سے 200 ہندو خاندانوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 800 لوگ شمالی دہلی کے آدرش نگر علاقے میں دہلی جل بورڈ کی زمین پر کچی آبادیوں میں بجلی کے بغیر رہ رہے ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن نافذ ہونے کے بعد اسکولوں میں آن لائن تعلیم شروع کی گئی ہے۔ بجلی کے کنکشن نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔