تین کروڑ لوگوں کو مکان دے کر انہیں لکھ پتی بنایا: وزیر اعظم مودی

وزیراعظم نے کہا کہ سال 2017 سے پہلے یوپی میں بجلی آتی کم تھی جاتی زیادہ تھی۔ لیڈر جہاں جاتے تھے وہیں بجلی آتی تھی۔ مگر یوگی کے اقتدار میں آنے کے بعد اب ریاست میں ایک ساتھ ہر جگہ بجلی آتی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی / آئی اے این ایس
وزیر اعظم نریندر مودی / آئی اے این ایس
user

یو این آئی

لکھنؤ: سابقہ حکومتوں پر غریبوں کے لئے بنیادی سہولیات کو بھی نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ان کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد تین کروڑ لوگوں کو پختہ مکان دے کر انہیں لکھ پتی بنانے کا کام کیا ہے۔

آزادی کے 75 ویں سال کے خاص موقع پر مودی نے منگل کو یہاں گومتی نگر واقعہ اندرا گاندھی پرتشٹھان میں منعقد سہ روزہ اربن کانکلیو کا افتتاح کیا اور اتر پردیش کو 4737 کروڑ روپئے کے اخراجات والے 75 پروجکٹوں کی سوغات دی۔ انہوں نے پی ایم آواس اسکیم (شہری) کے تحت 75 اضلاع کے 75000 مستفیدین کو ڈیجیٹل ذرائع سے چابیاں سونپی اور اسمارٹ مشن کے تحت اترپردیش کی 10 اسمارٹ سٹیز کی کامیابی کی 75 کہانیوں پر مبنی کافی ٹبیل بل کا اجراء کیا۔ ساتھ ہی ریاست کے مختلف شہروں میں چلانے کے لئے 75 الکٹرک بسوں کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔


اس موقع پر انہوں نے کہا کہ 'سال 2014 کے بعد سے ہماری حکومت نے پی ایم آواس اسکیم کے تحت شہروں میں ایک کروڑ 13 لاکھ سے زیادہ گھروں کی تعمیر کو منظوری دی ہے، اس میں سے 50لاکھ سے زیادہ گھر بناکر غریبوں کو دیئے جاچکے ہیں۔ ایسے لوگ جو ان پر الزام لگاتے ہیں کہ مودی نے کیا کیا ہے ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ پی ایم آواس اسکیم کے تحت ان کی حکومت نے تقریباً تین کروڑ لوگوں کو مکان دئیے ہیں جس کی وجہ سے وہ لکھ پتی بن گئے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں بنیادی سہولیات کی توسیع میں تکنیک کا خاص کردار رہا ہے۔ یوپی کے چھ شہروں میں میٹرو پروجیکٹ شروع ہے ملک کے 100شہروں میں الکٹرک بسوں کو چلانے کا کام شروع ہو رہا ہے۔ ایل ای ڈی بلب سے کارپوریشنوں کے کروڑ روپئے بچ رہے ہیں۔ بجلی بھی کم خرچ ہوئی ہے ملک میں 37 کروڑ ایل ای ڈی بلب تقسیم کئے گئے جس سے31 ہزار کروڑ روپئے کی بجلی کی بچت ہوئی ہے۔


وزیراعظم نے کہا کہ سال 2017 سے پہلے یوپی میں بجلی آتی کم تھی جاتی زیادہ تھی۔ لیڈر جہاں جاتے تھے وہیں بجلی آتی تھی۔ بجلی سہولیت نہیں سیاسی آلہ بن چکی تھی، مگر یوگی کے اقتدار میں آنے کے بعد اب ریاست میں ایک ساتھ ہر جگہ بجلی آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سال 2014 سے پہلے غریبوں کے لئے رہاش گاہ کے سلسلے میں کوئی واضح پالیسی نہیں تھی۔ غریب جھگی، جھونپڑی میں زندگی جیتے تھے۔ ان کے پاس پختہ چھت نہیں تھی۔ ان کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد رہائش گاہ کے سلسلے میں واضح پالیسی کو وضع کیا۔ طے کیا گیا کہ 22 اسکوائر میٹر سے چھوٹا کوئی گھر نہیں بنے گا۔ گھر کا سائز بڑھانے کے ساتھ ہی پیسہ سیدھے مستحقین کے کھاتے میں بھیجنا شروع کیا گیا۔


اترپردیش میں سال 2017 سے پہلے غریبوں کے لئے رہائش گاہ بنانے کے لئے حکومت سے منت و سماجت کرنی پڑتی تھی لیکن وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے آنے کے بعد یوپی میں شہری غریبوں کو نو لاکھ کا گھر بنا کر دیئے گئے ہیں۔ ان گھروں میں بجلی، پانی، گیس اور بیت الخلاء کی سہولت میسر ہے۔

مودی نے کہا کہ 'میں یوپی کے عوام کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ مجھے ملک کے عوام کی خدمت کرنے کا موقع دیا اور مجھے ممبر آف پارلیمنٹ بنا کر بھیجا۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کو یاد کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ لکھنؤ میں اٹل جی کی شکل میں ایک وژنری، ماں بھارتی کے لئے وقف قومی ہیرو ملک کو دیا ہے۔ ان کی یاد میں بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر یونیورسٹی میں اٹل بہاری واجپئی چیئر قائم کی جا رہی ہے۔


مجھے اچھا لگا کہ تین دنوں تک لکھنؤ میں ہندوستان کے شہروں کے نئے ڈیزائن پر پورے ملک کے ماہرین یکجا ہوکر غوروخوض کرنے والے ہیں۔ یہاں جو نمائش لگی ہے وہ آزادی کے اس امرت موتسو میں 75 سال کی حصولیابیوں اور ملک کے نئے عزائم کو اچھی طرح سے ظاہر کرتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔