کیا ایپ پر پابندی سے چین کی اکڑ ڈھیلی ہو گئی؟

لیجین نے ہندوستان کی جانب سے چینی ایپ پر عائد پابندی کے سلسلے میں کہا کہ "ہم کہنا چاہتے ہیں کہ چین کی حکومت ہمیشہ اپنے کاروباریوں سے کہتی ہے کہ وہ بین الاقوامی اور مقامی قوانین پر عمل درآمد كریں‘‘۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

بیجنگ: لداخ کی گلوان وادی میں ہندوستانی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ کے بعد پیدا شدہ تناؤ اور کشیدگی کے ماحول کے درمیان ہندوستان کی جانب سے چین کے 59 ایپ پر پابندی لگا دی گئی ہے، جس پر چین کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ چین جہاں اس صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے وہیں ہندوستان کے متعدد لوگوں کا خیال ہے کہ ہندوستان کے اس قدم سے چین کی اکڑ ڈھیلی ہو گئی ہے۔

گلوان جھڑپ کے بعد بعد بھی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے والے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان جھاو لیجین نے منگل کے روز تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہم صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہی نہیں، ہندوستان کے اس اقدام کے بعد چین نے بین الاقوامی قانون کا راگ الاپنا شروع کر دیا ہے۔

لیجین نے ہندوستان کی جانب سے چین کے ایپ پر پابندی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا،" ہم کہنا چاہتے ہیں کہ چین کی حکومت ہمیشہ اپنے کاروباریوں سے کہتی ہے کہ وہ بین الاقوامی اور مقامی قوانین پر عمل درآمد كریں۔ حکومت ہند پر چین سمیت تمام بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے قانونی حقوق کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری ہے"۔ غور طلب ہے کہ ہندوستان نے پیر کو ٹک ٹاک سمیت چین کے 59 ایپ پر پابندی عائد کرنے کا بڑا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی گوگل پلے اسٹور اور ایپل ایپ اسٹور کو انہیں ہٹانے کا حکم دیا تھا۔