محمد بن سلمان: تبدیلیوں کے تین سال مکمل

ولی عہد محمد بن سلمان نے قانونی اور معاشرتی رخ پر اپنے انقلابی قدم کا آغاز 27 ستمبر کو اس وقت کیا جب انہوں نے ایک شاہی فرمان کے ذریعہ خواتین کی ڈرائیونگ پر دہائیوں سے عائد پابندی ختم کر دی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

محمد بن سلطان کو آج سے تین سال قبل 2017 میں اسی مہینے کی 21 تاریخ کو ملک کا ولی عہد بنا کر زندگی کے تمام شعبوں میں اصلاحات کے اختیارات سے لیس کیا گیا تھا۔ ولی عہد نے قانونی اور معاشرتی رخ پر اپنے انقلابی قدم کا آغاز 27 ستمبر کو اس وقت کیا جب انہوں نے ایک شاہی فرمان کے ذریعہ خواتین کی ڈرائیونگ پر دہائیوں سے عائد پابندی ختم کر دی۔ اس حکم پر باقاعدہ عمل 24 جون 2018 سے شروع ہوا۔

اس کے بعد 24 اکتوبر 2017 کو سلمان نے ملک میں اعتدال پسند اسلام کی بحالی کا عہد کیا۔ آئندہ سال 11 مارچ 2018 کو ولی عہد کے حکم پر وزارت انصاف ایک سرکلر جاری کرکے طلاق یافتہ خواتین کو اپنے بچوں کو اپنے ساتھ رکھنے کے فوری اختیار سے نوازا۔

اسی سال 29 مئی کو وزرا کی کونسل نے جنسی ہراسانی کو جرم قرار دینے کے قانون کو منظور کر لیا۔ 29 جولائی 2018 کوایک شاہی فرمان جاری کیا گیا جس کی رو سے خواتین کے سفر پر عائد پابندیاں ختم کر دی گئیں۔ اکیس سال اور اس سے زیادہ عمر کی لڑکیوں اور عورتوں کو آزادنہ سفر کی اجازت دے دی گئی۔ 20اگست 2019 سے یہ آزادی عمل میں آگئی۔

27 ستمبر 2019 کو سعودی عرب میں پہلی مرتبہ ٹورسٹ ای ویزا کی پیشکش کی گئی۔ 49 ملکوں ویزیٹرس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ سعودی عرب کے دورے پر آنے والوں کو لباس کے قدامت پسند کے ضابطے کی پابندی سے بھی آزاد کر دیا گیا۔ اس سال 25 اپریل کو انسانی تہذیب کے محاذ پر ایک بڑا انقلاب اس وقت آیا جب سعودی عدالت عظمیٰ نے کوڑے مارنے کی سزا ختم کر دی۔ اس کے بعد 28 اپریل کو سپریم کورٹ نے کم سن خاطیوں کے لئے سزائے موت بھی ختم کر دی۔