کورونا وائرس کی اصل جاننے کے لیے ڈبلو ایچ او کا تحقیقاتی مشن چین جائے گا

یہ پیش رفت امریکہ کی جانب سے شدید تنقید اور یورپی ممالک کی جانب سے کورونا وائرس کی اصل کے بارے میں تحقیق کی ضرورت پر زور کے بعد سامنے آئی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ دنوں کے دوران ایک تحقیقاتی ٹیم چین بھیجے گا۔ یہ پیش رفت امریکہ کی جانب سے شدید تنقید اور یورپی ممالک کی جانب سے کورونا وائرس کی اصل کے بارے میں تحقیق کی ضرورت پر زور کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس وبا نے دنیا بھر میں اب تک پانچ لاکھ سے زیادہ انسانوں کی جانوں کو نگل لیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈرس ایڈہانوم گیبریسس نے ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ ادارہ آئندہ ہفتے ایک ٹیم چین بھیجے گا تا کہ کورونا وائرس کی وبا کی اصل کے حوالے سے تحقیق کی جا سکے۔ امریکی انتظامیہ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی ماہ سے عالمی ادارہ صحت کی کارکردگی پر کڑی تنقید کر رہے تھے .. ساتھ ہی ادارے پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ چین کے حوالے سے جانب داری کا مظاہر کر رہا ہے۔

ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کاکردگی میں مطلوبہ بنیادی اصلاحات نہ کیے جانے پر گذشتہ ماہ ادارے کے لیے اپنے ملک کی جانب سے مالی معاونت کا سلسلہ روک دینے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے اعلی ذمے داران بیجنگ پر الزام عائد کرتے ہیں کہ اس نے کورونا وائرس کے حوالے سے معلومات پر پردہ ڈالا اور اس وبا کے ساتھ نمٹنے میں شفافیت کا مظاہرہ نہیں کیا۔

اقوام متحدہ میں ہنگامی پروگرام کے ڈائریکٹر مائیک ریون نے پیر کی شام اپنے بیان میں کہا کہ اگرچہ کئی ممالک نے عالمی سطح پر کوویڈ-19 کے خلاف پیش رفت کو یقینی بنایا ہے تاہم اس کے باوجود یہ وبا اپنے اختتام کے قریب نہیں آئی ہے بلکہ اس میں شدت آ رہی ہے۔

(العربیہ ڈاٹ نیٹ)

Published: 30 Jun 2020, 11:40 AM