ہریانہ: مہاپنچایت نے کسان مظاہرین کو دی دھمکی، کہا جبراً ہائی وے کھلوا لیں گے

گاؤں کے باشندگان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ بھی ان کو نہیں روک پائے گی رات میں ٹینٹ میں داخل ہوکر کسانوں کو جبراً یہاں سے بھگا دیں گے

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

الور: راجستھان میں ضلع الور کے شاہجہاں پور میں قومی شاہراہ جام کرکے بیٹھے کسان مظاہرین کو 35 گاؤں کے گرامینوں نے مہاپنچایت کرکے آج شام پانچ بجے تک ہائی وے کھولنے کا الٹی میٹم دے دیا۔مہاپنچایت نے شاہراہ کو نہ کھولنے پر جبراً ہائی وے کھلوانے کی دھمکی دی ہے۔ 35 گاؤں کے دیہی باشندوں نے مہاپنچایت کے بعد مظاہرین کسانوں سے بات چیت کی، جس میں مظاہرین کسانوں نے شاہراہ سے ہٹنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد مہاپنچایتوں نے فیصلہ کیا کہ شام پانچ بجے تک مظاہرین کسان ہائی وے کو خالی نہیں کرتے ہیں تو انہیں جبراً خالی کرالیا جائے گا۔ اس کے بعد ہریانہ انتظامیہ کے ذریعہ ان سے بات کی گئی اور راجستھان انتظامیہ سے بات چیت کی جا رہی ہے۔

راجستھان اور ہریانہ کے بارڈر کے آس پاس آباد ان گاؤں کے لوگ جمع ہو رہے ہیں۔ دیہی باشندوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ بھی ان کو نہیں روک پائے گی رات میں ٹینٹ میں داخل ہوکر کسانوں کو جبراً یہاں سے بھگا دیں گے اس کے بعد ہریانہ پولیس کے افسر انہیں منانے میں مصروف ہوگئے ہیں اور امن وامان کو بنائے رکھنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ فی الحال گرامین دھرنا دے کر ہریانہ کی طرف ہائی وے پر بیٹھ گئے ہیں اور بارڈر پر لگے بیریکیٹس پر پولیس الرٹ ہوکر کھڑی ہوگئی ہے۔


دیہی باشندہ مینو یادو نے بتایا کہ کسان تحریک کرنے والوں کے ذریعہ ہائی وے کو نہیں کھولا گیا تو 35 گاوں کے لوگ جمع ہوکر مرد و خواتین اور بچوں سمیت شاہراہ پر آئیں گے اور جبراً ہائی وے کو کھلوا دیں گے۔ پولیس اورانتطامیہ بھی ان کی مدد نہیں کر پاے گی، کسانوں کی تحریک کی وجہ سے ان کے کاروبار متاثر ہو رہے ہیں اور لوگوں میں بیروزگاری بڑھی ہے، گھر کاخرچ چلانا مشکل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرپار کی جنگ کریں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔