کورونا دور میں وائرس کی طرح پھیلے سازشی نظریات... نواب علی اختر

ہندوستان میں ویکسین کا ابھی کوئی نام ونشان نہیں ہے مگر حکمرانوں کے وعدے اور دعوے سے ایسا لگ رہا ہے کہ ویکسی نیشن بھی سرکاری راشن ثابت ہوگا۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

نواب علی اختر

دنیا میں کورونا وائرس کی وَبا پھیلنے کے بعد سے اب تک میڈیا میں اس کی خبریں سب سے نمایاں انداز یا شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کی جارہی ہیں۔ کووِڈ-19 کی وَبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے دنیا کے ملکوں نے اپنے یہاں لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا، اپنی بین الاقوامی سرحدیں بند کر دیں اور فضائی کمپنیوں کو اپنی پروازیں بند کرنا پڑی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی حکومتوں نے متعدد اقدامات کرتے ہوئے وبا کی روک تھام کے لیے کئی تدابیر اختیار کیں۔ یہ بھی ایک سچائی ہے کہ جنگوں یا وبائی امراض کے بحرانوں کے وقت سازشی نظریات بھی بڑی تیزی سے پھیلتے ہیں۔ کورونا کی وبا کے دوران میں تو سازشی نظریات وائرس ہی کی طرح پھیلتے رہے ہیں اور اب تک پھیلائے جا رہے ہیں۔ سائنسدانوں کے کارنامے کو حکومتیں ہتھیانے کی کوشش کر رہی ہیں جس پر اپوزیشن کے ساتھ ساتھ عوام بھی سخت اعتراض کر رہے ہیں۔

ہندوستان میں عالمی وبا پھیلنے کے لیے حکومت کو مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ پڑوسی چین میں وبا کا قہر جاری ہونے کے باوجود ہندوستان کی مودی حکومت سنجیدہ نظر نہیں آئی اور ملک کی سرحدوں کے ساتھ بین الاقوامی پروازوں پر اس وقت روک لگانے کی سوچی جب وبا نے ملک میں کافی حد تک اپنی جگہ بنالی تھی۔ حکومت نے اچانک لاک ڈاؤن کا فرمان جاری کر کے لاکھوں تارکین وطن کو چہار دیواری میں قید کردیا اور جب وبا کے ساتھ ساتھ بھوک اور دیگر امراض سے لوگوں کے مرنے کی خبریں آنے لگیں تب حکومت کی نیند کھلی اور لاک ڈاؤن میں ’نرمی‘ کر کے لوگوں کو گھروں کے باہر سڑکوں پر موت کا نوالہ بننے پر مجبور کر دیا۔ اس دوران سینکڑوں لوگ بے وجہ مارے گئے اور ہزاروں لوگ روزگار سے محروم ہو گئے لیکن حکومت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

اب جب کہ کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے کئی ماہ کی میراتھن محنت کے بعد ہمارے سائنسدانوں نے ویکسین بنانے کا دعویٰ کیا ہے، اس پر بھی حکومت اپنی اجارہ داری ثابت کرنے کی کوششوں میں لگ گئی ہے۔ ہندوستان میں ویکسین کا ابھی نام ونشان نہیں ہے مگر حکمرانوں کے وعدے اور دعوے سے ایسا لگ رہا ہے کہ ویکسی نیشن بھی سرکاری راشن ثابت ہوگا، جس سے وقتی طور پرغریبوں کا پیٹ تو بھرجائے گا مگر مستقل طور پر ان کی زندگی خطرے میں پڑجائے گی۔ ان سب کے باوجود حکومت نے ویکسین تقسیم کرنے کے لیے ’اپنی خاص‘ ریاستوں کا انتخاب بھی کرلیا ہے جس پر اپوزیشن نے سخت اعتراض کیا ہے۔ لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا مرکز کی نریندر مودی زیر قیادت بی جے پی حکومت انہیں ریاستوں کو ویکسین دے گی جہاں اس کی اپنی حکومتیں ہیں؟ اگر ایسا ہے تو کیا غیر بی جے پی حکومت والی ریاستیں ویکسین سے محروم رہ جائیں گی۔

ایسے وقت میں جب دنیا کے کئی ممالک میں ہزاروں لوگوں کو ویکسین لگائی جاچکی ہے، ہندوستان میں ابھی تک ویکسین کی تیاری ہو رہی ہیں۔ حکومت کی جانب سے پورے ملک میں ’ڈرائی رن‘ چلایا گیا جہاں بد انتظامی کی وجہ سے کئی سوال پیدا ہو گئے ہیں۔ اسی درمیان کئی سیاستدانوں بالخصوص سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے اعلان کیا ہے کہ وہ بی جے پی کی ویکسین نہیں لگوائیں گے۔ اس طرح کے اختلافات کی موجودگی میں کیا ویکسین لانے اور اس سے لوگوں کی جان بچانے میں کامیابی مل سکے گی۔ عوام میں ایسے کئی سوالات گردش کر رہے ہیں مگر ان کا کوئی مداوا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے یہی وجہ ہے کہ حکومت کے دعوے اور وعدوں کے درمیان سیاستدانوں کے ساتھ ہی عوام بھی تذبذب کا شکار ہیں۔ حکومت کو پہلے ان حالات پر قابو پانے کی ضرورت ہے بصورت دیگر ممکنہ ویکسی نیشن ایک خواب بن کررہ جائے گا۔

دنیا میں تقریباً ایک صدی کے بعد صحت عامہ کے سب سے بڑے عالمی بحران کے دوران گزشتہ ایک سال میں منفی اطلاعات اور سازشی نظریات کی تشہیر کی گئی ہے۔ بالخصوص انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں۔ ان سازشی نظریات میں سے ایک یہ تھا کہ نئے 5 جی وائرلیس براڈ بینڈ سے کورونا وائرس پھیلا تھا اور یہ کہا گیا تھا کہ اس وائرس کو حیاتیاتی ہتھیار کے طور پر دنیا میں پھیلایا گیا تھا۔ دسمبر2019 میں چین کے وسطی شہر ووہان میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد سے اب تک بے شمار سازشی نظریات پھیلے یا پھیلائے۔ کورونا وائرس پھیلنے کی سب سے عجیب وضاحت یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ وَبا 5 جی موبائل ٹیکنالوجی کے منظرعام پر آنے کے نتیجے میں پھیلی ہے۔ بعض لوگوں نے دلیل دی تھی کہ کورونا وائرس کو اس لیے تخلیق کیا گیا تھا تاکہ 5 جی ٹیکنالوجی کو متعارف کراتے وقت لوگ اپنے گھروں ہی میں مقیّد رہیں۔

بعض دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ 5 جی سے ایسی تابکاری لہریں نکلی تھیں جن سے لوگوں کا مدافعتی نظام کمزور پڑ گیا تھا اور اس طرح وہ وائرس کا آسان ہدف بن گئے تھے جبکہ بعض نظریات دانوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ 5 جی ٹیکنالوجی براہِ راست وائرس کو منتقل کرنے کا سبب بنی ہے۔ سازشی نظریات دو واقعات کا باہم ناطہ جوڑتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان دونوں وقوعات کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ جون ہی 5 جی نیٹ ورکس کو تیزی سے پھیلایا گیا تو عین اسی وقت کورونا وائرس کی وبا بھی پھیلنا شروع ہوگئی تھی۔ یوگوو کیمبرج گلوبل ازم پراجیکٹ کے ذریعہ دنیا کے 25 ممالک میں تقریباً 26 ہزار لوگوں سے کیے گیے سروے میں ہر پانچویں جواب دہندہ کا تعلق ترکی، مصر، نائجیریا اور جنوبی افریقہ سے تھا۔ ان سبھی کا یہی کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی علامات کو 5 جی کے انسانی جسم پر براہ راست اثرات کے سبب مہمیز ملی تھی۔

اس نظریے کے ردعمل میں ڈبلیو ایچ او کو یہ وضاحت کرنا پڑی تھی کہ کورونا وائرس موبائل نیٹ ورک سے پھیلتا ہے اور نہ ان کے ذریعے سفر کرتا ہے۔ اس نے اس کے ثبوت میں کہا تھا کہ یہ ان ممالک میں بھی پھیلا ہے جہاں سرے سے 5 جی نیٹ ورکس موجود ہی نہیں ہے۔ اس سازشی نظریے کو ان نمایاں شخصیات نے پھیلایا تھا جن کے سوشل میڈیا پر پیرو کاروں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اس کے ردعمل میں برطانیہ اور بعض دوسرے ممالک میں سیل فون کے ٹاوروں کو نذرآتش کردیا گیا تھا۔ سازشی نظریات دانوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ کورونا وائرس کی وَبا لوگوں کے جسموں میں ویکسین کے ذریعے ایک مائکرو چپ داخل کرنے کے لیے پھیلائی گئی ہے اور جن لوگوں کو ویکسین لگائی جائے گی،ان کے جسموں میں اس طریقے سے ایک مائکرو چپ بھی داخل کر دی جائے گی اوریوں اس کے ذریعے لوگوں کا بآسانی سراغ لگایا جاسکے گا۔

ایک مفروضہ یہ بھی ہے کہ اس وائرس کا سرے کوئی فطری منبع نہیں ہے۔ آن لائن تھیورسٹوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ کووِڈ-19 کو دراصل ایک اعلیٰ سطح کی حیاتیاتی لیبارٹری میں بنایا گیا تھا۔ اس ضمن میں چینی سائنس دانوں پر الزام عاید کیا گیا تھا کہ انھوں ہی نے اس وائرس کو ڈیزائن کیا اور جدید دور کے حیاتیاتی ہتھیار کے طور پر پھیلایا تھا۔ یہ بڑا مہلک اور کارگر ہتھیار ثابت ہوا ہے۔ پیو ریسرچ کے ایک مطالعہ کے مطابق ہر 10 میں سے تین امریکی اس بات میں یقین رکھتے تھے کہ کووِڈ-19 کو حادثاتی یا جان بوجھ کرلیبارٹری میں بنایا گیا تھا۔ مؤخرالذکرمفروضے پر زیادہ یقین کیا جاتا رہا ہے۔ بالخصوص 23 فیصد کے بارے میں یہ یقین کیا جاتا ہے کہ یہ جان بوجھ کر پھیلایا گیا تھا۔ صرف 6 فیصد کا یہ خیال تھا کہ یہ حادثاتی طور پر پھیلا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔