کھٹر حکومت کے 8 سال میں ہریانہ ہوا بدحال، سرمایہ کاری ہوئی نہیں اور بے روزگاری آسمان پر

ہریانہ کے اقتدار میں 8 سال پورے ہونے پر کھٹر حکومت نے اپنی مدت کار میں صنعتی سرمایہ کاری کی جو داستان سنائی ہے، اس میں 3 لاکھ روپے سرمایہ کاری والی یونٹ کو بھی صنعت مانا ہے۔

وزیر اعلی کھٹر، تصویر آئی اے این ایس
وزیر اعلی کھٹر، تصویر آئی اے این ایس
user

دھیریندر اوستھی

ہریانہ میں 27 اکتوبر کو 8 سال مکمل کرنے والی وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کی قیادت میں چل رہی بی جے پی حکومت کے 7 سال میں صنعتی ترقی کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ یہ کہانی ریاست میں صنعتی سرمایہ کاری کو لے کر تیار کیے گئے بڑے دعووں کی حقیقت کی ہے۔ یہ حکومت کی پالیسیوں اور نیت کا آئینہ ہے۔ ان سالوں میں ہوئی صنعتی سرمایہ کاری کے اعداد و شمار کے پیچھے چھپے اعداد و شمار ایک نئی تصویر پیش کر رہے ہیں۔ مثلاً 2015 میں چرکھی دادری میں 43 صنعتی یونٹس لگے جن میں 11.90 کروڑ اور فتح آباد میں 25 یونٹس لگے جن میں 7 کروڑ کی سرمایہ کاری ہوئی۔ مطلب اوسطاً 27 لاکھ روپے فی یونٹ سرمایہ کاری ہوئی۔

اسی طرح 2016 میں میوات میں 77 یونٹس لگے جن میں 11 کروڑ کی سرمایہ کاری ہوئی۔ مطلب تقریباً 15 لاکھ روپے فی یونٹ۔ 2021 میں چرکھی دادری میں 82 صنعتی یونٹس لگے جن میں 3.28 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی۔ مطلب ایک صنعتی یونٹ میں سرمایہ کاری ہوئی تقریباً 4 لاکھ۔ یہی نہیں، 3 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری والے یونٹ کو بھی کھٹر حکومت نے صنعت مانا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ تین یا چار لاکھ میں کون سی صنعت لگ سکتی ہے اور کتنے لوگوں کو یہاں روزگار مل جائے گا۔ ظاہر ہے کہ اس میں پکوڑا چھاپ روزگار ہی مل سکتا ہے۔ فطری ہے کہ یہ امرت کال میں ہی ہو سکتا ہے۔


ملک میں سب سے زیادہ بے روزگاری (سی ایم آئی ای کے مطابق تقریباً 37 فیصد) کی مار برداشت کر رہے ہریانہ کے اقتدار پر قابض ہوئے بی جے پی کو 27 اکتوبر کو آٹھ سال پورے ہو گئے۔ ان آٹھ سالوں میں سے 7 سال میں ہوئی صنعتی ترقی کے اعداد و شمار حکومت کی بدترین تصویر پیش کر رہے ہیں۔ جس ریاست میں نوجوانوں کی امید کی آخری سمع پرائیویٹ سیکٹر ہی بچتا ہے۔ لیکن 2014 میں ریاست کے اقتدار میں قابض ہوئے وزیر اعلیٰ منوہر لال کی حکومت کے 7 سال میں پرائیویٹ سیکٹر کی کہانی اعداد و شمار میں الجھی ہوئی ہے۔

حکومت کے اعداد و شمار کہہ رہے ہیں کہ ان قریب 7 سالوں میں ریاست میں 132558 صنعتی یونٹس لگے ہیں جن میں محض 30541 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ اس طرح ایک یونٹ میں اوسطاً 4 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کھٹر حکومت کے 7 سال میں ہریانہ میں ہوئی۔ حکومت ہند کے مائیکرو، میڈیم اور اسمال انڈسٹری وزارت کی تعریف کے مطابق ایک کروڑ سرمایہ کاری والا یونٹ مائیکرو اور 10 کروڑ سرمایہ کاری والا یونٹ اسمال انڈسٹری کے درجہ میں آتا ہے۔ اوسطاً 4 کروڑ فی یونٹ کی سرمایہ کاری مائیکرو انڈسٹری کے درجہ میں ہی مانا جانا چاہیے۔ لیکن اصل کہانی اس سے آگے کی ہے۔


جب تین یا چار لاکھ تک سرمایہ کاری کو حکومت صنعتی یونٹ مان رہی ہے تو حکومت کی منشا سمجھی جا سکتی ہے۔ چار لاکھ میں صنعت لگانے کا چمتکار تو بی جے پی حکومت ہی کر سکتی ہے۔ اس سرمایہ سے لگنے والی صنعت میں روزگار پیدا ہونے کی اسکرپٹ بھی شاید بی جے پی حکومت ہی لکھ سکتی ہے۔ یہ کہانی کسی ایک یا دو ضلع کی نہیں ہے، ریاست کے ہر ضلعے کے اعداد و شمار سرمایہ کاری کی تقریباً اسی طرح کی داستان بیان کر رہے ہیں۔ 2015 میں حسار میں 59.17 کروڑ کی لاگت سے 456 صنعتی یونٹس لگے، جب کہ کیتھل میں 49.53 کروڑ کی سرمایہ کاری سے 452، میوات میں 12.75 کروڑ کی سرمایہ کاری سے 70، پلون میں 52.03 کروڑ کی سرمایہ کاری سے 248، پنچکولہ میں 23.03 کروڑ میں 65، پانی پت میں 189.25 کروڑ سے 1228، اور سرسا میں 15.25 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے 53 صنعتی یونٹس لگائے گئے۔

یہی کہانی 2016 میں بھی دہرائی گئی ہے۔ 2016 میں انبالہ میں 882 یونٹس لگے جن میں 157.70 کروڑ کی سرمایہ کاری ہوئی۔ اسی طرح بھوانی میں 58.15 کروڑ کی سرمایہ کاری سے 306 یونٹس، چرکھی دادری میں 35.44 کروڑ سے 95، جیند میں 84.16 کروڑ سے 813، میوات میں 11.01 کروڑ سے 77، پنچکولہ میں 32.42 کروڑ سے 131 اور سرسا میں 67.45 کروڑ کی لاگت سے 423 صنعتیں لگیں۔ سال 2017 میں میوات میں 157 یونٹس لگے، جن میں 22.73 کروڑ کی سرمایہ کاری ہوئی۔ اسی طرح پنچکولہ میں 29.38 کروڑ کی سرمایہ کاری سے 238 یونٹس لگے۔ یعنی فی یونٹ تقریباً 8 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی۔


اسی طرح 2018 میں بھوانی میں 614 صنعتی یونٹس لگے، جن میں 26.72 کروڑ کی سرمایہ کاری ہوئی۔ یعنی ایک یونٹ تقریباً 4 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری سے لگایا گیا۔ اسی طرح چرکھی دادری میں 28.12 کروڑ کی سرمایہ کاری سے 134 صنعتی یونٹس لگائے گئے، فتح آباد میں 55.48 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے 635، نارنول میں 61.29 کروڑ سے 457، اور پلول میں 89.26 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے 617 صنعتیں لگیں۔ ضلع در ضلع یہی کہانی ہے۔

2019 میں چرکھی دادری میں 23.85 کروڑ کی سرمایہ کاری سے 130 صنعتیں لگیں، جب کہ فرید آباد میں 253.67 کروڑ روپے سے 1350 صنعتیں لگیں۔ مطلب ایک صنعتی یونٹ میں تقریباً 20 لاکھ روپے کی اوسط سرمایہ کاری ہوئی۔ یہ گروتھ اسٹوری ملک کے بڑے صنعتی ہب فرید آباد کی ہے۔ 2019 میں ہی حسار میں 56.14 کروڑ کی سرمایہ کاری سے 673 صنعتیں لگیں، جب کہ 79.72 کروڑ روپے سے پنچکولہ میں 594 صنعتیں لگیں۔


اب بات کرتے ہیں کووڈ دور، یعنی 2020 اور 2021 کی۔ 2020 میں میڈیکل ایکوئپمنٹ کے لیے مشہور انبالہ میں 60.88 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے 1094 صنعتیں لگیں اس کے مطابق فی صنعتی یونٹ تقریباً 6-5 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی۔ بڑے صنعتی ہب فرید آباد میں 248.44 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے 2828 صنعتیں لگیں۔ گروگرام میں 80.31 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے 1626 صنعتیں لگیں، جب کہ پانی پت میں 64.60 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے 1708 صنعتیں لگیں۔

اسی طرح 2021 میں انبالہ میں 32.13 کروڑ کی سرمایہ کاری سے 1245 یونٹس لگے، جب کہ فرید آباد میں 130.74 کروڑ روپے سے 3131 اور گروگرام میں 193.91 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے 558 یونٹس لگے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ 2021 میں میوات میں 21.65 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے 699 صنعتی یونٹس لگنے کی بات حکومت نے اعداد و شمار کے ذریعہ بتائی ہے۔ مطلب اوسطاً ایک صنعتی یونٹ کے حصے میں 3 لاکھ روپے بھی نہیں آ رہے ہیں۔ 2021 میں پورے ہریانہ میں 1637.52 کروڑ کی سرمایہ کاری سے 22806 صنعتیں لگائی گئیں ہیں۔ ان اعداد و شمار کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ حکومت نے اعداد و شمار تو بڑھا چڑھا کر دکھا دیئے، لیکن سرمایہ کاری کے پیمانے پر ہریانہ کی اس ترقی کے پیچھے چھپی اسٹوری حکومت پر سنگین سوال کھڑے کر رہی ہے۔


حکومت نے مزید ایک اعداد و شمار پیش کیا ہے جو حیرت انگیز ہے۔ 2014 سے اب تک صرف دو صنعتیں ریاست میں بند ہوئی ہیں، جن میں محض 1100 لوگوں کو روزگار ملا ہوا تھا۔ یعنی حکومت کے مطابق 2014 سے لے کر 2021 تک 7 سال میں صرف 1100 لوگوں کا روزگار گیا ہے۔ اس میں وہ دور بھی شامل ہے جس میں نوٹ بندی سے لے کر جی ایس ٹی اور کورونا کی تباہی بھی ریاست نے برداشت کی ہے۔ باوجود اس کے اگر ریاست کے یہ اعداد و شمار ہیں تو پھر صاف ہے کہ ملک اور ریاست امرت کال میں ہی ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ نوٹ بندی اور کووڈ دور میں ہوئی تباہی کی کہانی جھوٹی ہے۔

انڈین نیشنل لوک دل رکن اسمبلی ابھے چوٹالہ کے سوال کے جواب میں اسمبلی میں پیش کیے گئے یہ اعداد و شمار بھی اسی کی تصدیق کر رہے ہیں۔ سال 2016 کے مارچ ماہ میں گروگرام میں ہوئی ہریانہ حکومت کی ’ہیپننگ ہریانہ گلوبل انویسٹرس سمٹ‘ کے بعد تقریباً 6 لاکھ کروڑ کی ممکنہ سرمایہ کاری والے 500 ایم او یو پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ ایم او یو (میمورینڈم آف انڈراسٹینڈنگ) بھی شاید کاغذوں پر ہی محدود ہو کر رہ گئے۔ چند دنوں پہلے وزیر اعلیٰ کا ایک سوال کے جواب میں یہ کہنا کہ سرمایہ کاری کے ذریعہ 8 سال میں حکومت نے پانچ سے ساڑھے پانچ لاکھ روزگار دیئے ہیں، اعداد و شمار تو اس بات کی تصدیق نہیں کرتے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔