ہریانہ: سرسا میں پرالی جلانے والے 235 لوگوں پر 6 لاکھ روپے کا جرمانہ

ڈپٹی کمشنر انیش یادو کا کہنا ہے کہ کسان پرالی کا انتظام کر کے اضافی آمدنی بھی کما سکتے ہیں، بہت سے کسان پچھلے کئی سالوں سے بیلر سے پرالی کی گانٹھیں بنا کر پرالی کا بہتر طریقے سے انتظام کر رہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سرسا: ہریانہ کے سرسا ضلع میں پرالی جلانے پر اب تک 235 لوگوں سے 6 لاکھ روپے کا جرمانہ وصول کیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر انیش یادو نے آج یہاں یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ مختلف محکموں کی تشکیل کردہ ٹیمیں ضلع میں پرالی جلانے کے واقعات کو روکنے کے لیے اپنے کام کو سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔ یہ ٹیمیں کل رات ضلع کے سکندر پور، وید والا، باجیکان گاؤں کے کھیتوں میں پہنچیں اور فائر بریگیڈ کی مدد سے پرالی کی آگ کو بجھا دیا۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پرالی جلانے کو روکنے کے لیے بلاک ڈیولپمنٹ پنچایت آفیسر، پٹواری اور ولیج سکریٹریز کی ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں۔ یہ ٹیمیں اپنے علاقوں میں مسلسل کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور جہاں کہیں بھی پرالی جلانے کے واقعات سامنے آتے ہیں تو ٹیمیں فوری طور پر وہاں پہنچ کر کارروائی کر رہی ہیں۔


ڈپٹی کمشنر نے یہ بھی کہا کہ ضلع میں مختلف سی ایس سی مراکز اور نجی ملکیت میں فصل کی باقیات کے انتظام کے فارم کے آلات دستیاب ہیں۔ ان آلات میں بیلرز بھی شامل ہیں، جن کے ذریعے کاشتکاروں کے پرالی کی گانٹھیں بنا کر فصل کی باقیات کا مناسب انتظام کر سکتے ہیں۔ کسان پرالی کا انتظام کر کے ماحول کو بچانے میں مدد کر کے اضافی آمدنی بھی کما سکتے ہیں۔ بہت سے کسان پچھلے کئی سالوں سے بیلر سے پرالی کی گانٹھیں بنا کر پرالی کا بہتر طریقے سے انتظام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھان کی پرالی جلانے سے ماحول آلودہ ہوتا ہے اور بنیادی طور پر ہوا زیادہ آلودہ ہوتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔