ہریش رانا کو مل گئی ’مرضی کی موت‘، ایمس میں 10 دنوں تک ڈاکٹروں کو حیران کرنے کے بعد لی آخری سانس
ڈاکٹروں کی ٹیم ہریش کو مسلسل درد کش اور ضروری ادویات دے رہی ہے، تاکہ انہیں کسی قسم کی تکلیف یا بے چینی محسوس نہ ہو۔ پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ ان کی زندگی کا آخری سفر پرسکون اور بغیر اذیت کے مکمل ہو۔

ہندوستان میں ’مرضی کی موت‘ یعنی ’پیسیو اتھنیسیا‘ کی اجازت پانے والے پہلے شخص ہریش رانا کا منگل کے روز ’آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز‘ (ایمس) میں انتقال ہو گیا۔ وہ 2013 سے کومہ میں تھے اور گزشتہ 13 سالوں سے لائف سپورٹ سسٹم کے سہارے زندہ تھے۔ انھوں نے 24 مارچ کو آخری سانس ضرور لی، لیکن اس سے قبل ڈاکٹروں کو حیرت میں بھی ڈالا۔
دراصل 24 مارچ کی صبح تک ڈاکٹر حیران تھے، کیونکہ دہلی کے ایمس میں بھرتی ہریش رانا کی حالت مستحکم بنی ہوئی تھی۔ ان کو گزشتہ 10 دنوں سے کھانا اور پانی نہیں دیا جا رہا تھا، پھر بھی انھیں ’مرضی کی موت‘ نہیں مل پا رہی تھی۔ ’پیسیو اتھنیسیا‘ (مرضی کی موت) کے عمل کے تحت خوراک بند کیے جانے کے کئی روز بعد بھی ان کی حالت میں گراوٹ درج نہیں کی گئی تھی، جس سے ڈاکٹرس حیران تھے۔ رپورٹس کے مطابق غازی آباد کے رہنے والے ہریش رانا کو 14 مارچ کو ایمس میں داخل کرایا گیا تھا۔ 15 مارچ کو ان کی مائع خوراک بند کر دی گئی اور 17 مارچ سے پانی بھی دینا روک دیا گیا۔ اس طرح گزشتہ تقریباً 10 دنوں سے انہیں نہ تو کھانا دیا جا رہا تھا اور نہ ہی پانی، اس کے باوجود ان کی حالت مستحکم بنی ہوئی تھی۔
ایمس کے کینسر اسپتال کے ’پیلی ایٹیو کیئر یونٹ‘ میں ہریش کا علاج چل رہا تھا۔ یونٹ کی سربراہ ڈاکٹر سیما مشرا کے مطابق عام طور پر اتنے دنوں تک کھانا اور پانی بند رہنے پر جسم میں بے چینی کی علامات نظر آتی ہیں۔ لیکن ہریش گزشتہ تقریباً 13 سال سے گہرے کومہ میں تھے، جس کی وجہ سے ان میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں ہو رہا تھا۔ دوسری جانب ایمس کے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم ہریش رانا کو مسلسل درد کش اور ضروری ادویات دے رہی تھی، تاکہ انہیں کسی قسم کی تکلیف یا بے چینی محسوس نہ ہو۔ پوری کوشش کی جا رہی تھی کہ ان کی زندگی کا آخری سفر پرسکون اور بغیر اذیت کے مکمل ہو۔
ہریش رانا کے والد اشوک رانا کے وکیل منیش جین نے اپنے ایک بیان میں بتایا تھا کہ اہل خانہ کو مسلسل اپڈیٹ دیا جا رہا ہے۔ وکیل منیش جین کے مطابق ہریش رانا کہ اہل خانہ کی مسلسل کونسلنگ کی جا رہی تھی تاکہ وہ اس حساس صورتحال کو سنبھال سکیں۔ ’برہما کماری راج یوگ سنستھان‘ سے وابستہ ہریش کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ اس عمل کو غیر ضروری طور پر طویل نہیں کھینچنا چاہتے۔ ان کا ماننا ہے کہ ان کا بیٹا بغیر کسی تکلیف کے اپنا آخری سفر مکمل کر لے۔
قابل ذکر ہے کہ 31 سالہ ہریش رانا 2013 سے کومہ میں تھے۔ سپریم کورٹ نے رواں ماہ 11 مارچ کو ان کے لیے ’پیسیو اتھنیسیا‘ کی اجازت دی تھی۔ ہریش پنجاب یونیورسٹی میں بی ٹیک کے طالب علم تھے۔ 2013 میں چوتھی منزل کی بالکنی سے گرنے کے سبب ان کے سر میں سنگین چوٹیں آئی تھیں، اس کے بعد سے ہی وہ کومہ میں تھے اور انہیں مصنوعی طریقے سے خوراک دی جاتی تھی۔ اپنے حکم میں سپریم کورٹ نے ہدایت دی تھی کہ ایمس کے ڈاکٹر ہریش رانا کے لائف سپورٹ کو ہٹانے کے لیے ایک خصوصی منصوبہ تیار کریں۔ اس پورے عمل کے دوران مریض کا وقار بحال رہے، اس کے بعد ایک خصوصی میڈیکل ٹیم تشکیل دی گئی، جس میں ڈاکٹر سیما مشرا کی قیادت میں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل کام کر رہی تھی۔
دہلی ایمس میں ’آنکو اینستھیزیا‘ کی سابق سربراہ ڈاکٹر سشما بھٹناگر نے ہریش کے ساتھ اختیار کیے جا رہے طریقے سے متعلق بتایا تھا کہ ’’اس عمل میں غذائیت کو آہستہ آہستہ کم کرنا یا مکمل طور پر ختم کرنا شامل ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یقینی بنایا جاتا ہے کہ مریض کو درد سے بھرپور راحت ملتی رہے۔ مریض کو درد کم کرنے والی ادویات دی جاتی ہیں تاکہ اسے کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔