سپریم کورٹ نے غازی آباد کے ہریش رانا کو 13 برس بعد دی خواہش مرگ کی اجازت
سپریم کورٹ نے غازی آباد کے 30 سالہ ہریش رانا کو خواہشِ مرگ کی اجازت دے دی۔ وہ 2013 میں حادثے کے بعد سے بے ہوش حالت میں بستر پر ہیں۔ عدالت نے ایمس میں طبی نگرانی میں علاج واپس لینے کا حکم دیا

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے غازی آباد کے رہنے والے 30 سالہ ہریش رانا کو خواہشِ مرگ (پیسیو یوتھینیشیا) کی اجازت دے دی ہے۔ ہریش رانا گزشتہ تقریباً 13 برس سے کوما کی حالت میں بستر پر ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں ہدایت دی کہ انہیں نئی دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) کے پیلی ایٹو کیئر شعبے میں داخل کیا جائے تاکہ طبی نگرانی میں ان کا علاج مرحلہ وار واپس لیا جا سکے اور پوری کارروائی ان کی عزت و وقار کو برقرار رکھتے ہوئے انجام دی جائے۔
یہ فیصلہ جسٹس جے بی پاردیوالا اور جسٹس کے وی وشواناتھن پر مشتمل بنچ نے سنایا۔ عدالت نے سماعت کے دوران اس معاملے کو نہایت افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ دینا آسان نہیں تھا مگر ایسے حالات میں انسانی وقار اور مسلسل تکلیف کو بھی نظر میں رکھنا ضروری ہے۔ جسٹس پاردیوالا نے کہا کہ یہ ایک انتہائی تکلیف دہ صورت حال ہے اور عدالت اس نوجوان کو طویل اذیت میں مبتلا نہیں دیکھ سکتی۔ ان کے مطابق اب وہ مرحلہ آ گیا ہے جہاں آخری فیصلہ کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
عدالت نے ہریش رانا کے خاندان کی تعریف بھی کی اور کہا کہ ان کے اہل خانہ نے گزشتہ برسوں میں غیر معمولی صبر اور وابستگی کا مظاہرہ کیا۔ عدالت کے مطابق کسی سے حقیقی محبت کا مطلب یہی ہے کہ مشکل ترین وقت میں بھی اس کا ساتھ نہ چھوڑا جائے۔ ہریش کے اہل خانہ نے برسوں تک ان کی دیکھ بھال جاری رکھی اور ہر ممکن علاج کرایا۔
دستاویزات کے مطابق ہریش رانا 2013 میں اس وقت شدید زخمی ہو گئے تھے جب وہ چنڈی گڑھ میں تعلیم کے دوران اپنے ہاسٹل کی چوتھی منزل سے گر گئے تھے۔ اس حادثے میں ان کے سر پر شدید چوٹیں آئیں اور وہ اسی وقت سے بے ہوش حالت میں ہیں۔ طویل عرصے تک بستر پر رہنے کے باعث ان کے جسم پر کئی زخم بھی ہو چکے ہیں اور انہیں سانس لینے، خوراک حاصل کرنے اور روزمرہ دیکھ بھال کے لیے مستقل طبی مدد درکار رہتی ہے۔
ایمس کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے حال ہی میں ہریش رانا کے گھر جا کر ان کا طبی معائنہ کیا تھا۔ اس کے بعد عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ وہ ٹریکیو اسٹومی ٹیوب کے ذریعے سانس لے رہے ہیں جبکہ گیسٹروسٹومی ٹیوب کے ذریعے انہیں غذا دی جا رہی ہے۔
اس سے پہلے دہلی ہائی کورٹ نے اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ ہندوستانی قانون میں فعال خواہشِ مرگ کی اجازت نہیں ہے۔ بعد میں اگست 2024 میں یہ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا جہاں مرکز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انسانی بنیادوں پر حل تلاش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اب عدالت کے تازہ فیصلے کے بعد ہریش رانا کے معاملے میں قانونی راستہ واضح ہو گیا ہے۔