شرپسندوں کا نیا حربہ: بنگال کے بعد اب یو پی میں کھلے میں نماز کی ’ہنومان چالیسہ‘ پڑھ کر مخالفت

رویندر کمار سنگھ نے کہا کہ ’’اگر مسلمان روڈ پر نماز پڑھنا بند کر دیتے ہیں، تو ہم بھی رُک جائیں گے۔ ورنہ ہر منگل کے روز تمام ہنومان مندروں کے باہر سڑکوں پر ’ہنومان چالیسہ‘ کا پاٹھ کیا جائے گا۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

ہاتھرس: ملک بھر میں مسلمانوں کو پریشان کرنے کے لئے ہندو تنظیموں کی طرف سے نئے نئے حربوں کو ایجاد کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اب شرپسندوں نے کھلے میں نماز کی مخالفت ہنومان چالیسہ پڑھ کر کرنی شروع کر دی ہے۔ اتر پردیش کے ہاتھرس میں قدامت پسند تنظیم ہندو یوا واہنی (ایچ وائی وی) کے کارکنان نے گذشتہ روز 17 جولائی کو کھلے میں نماز پڑھنے کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاج کیا اور ’ہنومان چالیسہ‘ کا پاٹھ (ورد) کیا۔

گئو کشی کے نام پر موب لنچنگ، داڑھی اور ٹوپی کی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ مار پیٹ اور نام پوچھ کر ان کے ساتھ تعصب والا رویہ اختیار کرنا۔ اس کے بعد بے شمار ایسے واقعات رونما ہوئے جب مسلم نوجوانوں کو شرپسندوں نے مارا پیٹا اور زبردستی ’جے شری رام ‘ کے نعرہ لگانے پر مجبور کیا گیا۔ یہ سب کرنے کے بعد اب ان شرپسندوں نے یہ نیا حربہ اختیار کیا ہے کہ مسلمانوں کے کھلے میں نماز ادا کرنے کی مخالفت ’ہنومان چالیسہ‘ پڑھ کی جائے۔

خبر رساں ایجنسی اے آئی این ایس کے مطابق ایچ وائی وی کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ وہ ہر منگل کو مسلسل اس وقت تک ’ہنومان چالیسہ‘ کا پاٹھ کریں گے جب تک مسلمان سڑکوں پر نماز پڑھنا بند نہیں کر دیتے۔

ایچ وائی وی کے کارکن رویندر کمار سنگھ نے کہا جمعہ کے روز مسلم طبقہ سڑک پر نما ز پڑھتا ہے جس کی وجہ سے سڑک جام ہو جاتی ہے اور لوگوں کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا ’’اگر مسلمان ایسا کرنا بند کر دیتے ہیں، تو ہم بھی رُک جائیں گے ۔ ورنہ ہر منگل کو تمام ہنومان مندروں کے باہر سڑکوں پر ’ہنومان چالیسہ‘ کا پاٹھ کیا جائے گا۔‘‘

اس معاملہ پر پولس انتظامیہ نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ ایک سینئر پولس افسر نے کہا کہ ’’اس معاملہ پر کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی کسی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے، ایسے حالات میں ہم کچھ نہیں کر سکتے۔‘‘

واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ہندو قدامت پسند تنظیموں کی طرف سے کھلے میں نماز پڑھنے کی مخالفت ہنومان چالیسہ پڑھ کر کی گئی ہے۔ مغربی بنگال میں ہاوڑہ کے بالی کھلا میں بی جے پی یوا مورچہ کے عہدیداروں سمیت کئی بی جے پی کارکنان نے حصہ لیا تھا۔ اس موقع پر بی جے پی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جب ایک مذہب کے لوگ جمعہ کے دن راستے میں بیٹھ کرنماز پڑھ سکتے ہیں تو پھر وہ منگل کے دن سڑک پر ’ہنومان چالیسہ‘ کیوں نہیں پڑھ سکتے؟