روڈ پر نماز ہوسکتی ہے تو ہنومان چالیسہ کیوں نہیں: بی جے پی

بی جے پی کارکنان نے نفرت کے لئے روڈ پر جمعہ کی نماز کو مدا بناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نماز ہوگی تو وہ منگل کو سڑک پر ہنومان چالیسہ بھی پڑھیں گے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

نفرت کو بڑھانے اور ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تار تار کرنے کے لئے بی جے پی کارکنان نئے نئےحربہ استعمال کرتے ہیں۔ آج کل اس کے لئے انہیں مغربی بنگال کا ایک بڑا میدان ملا ہوا ہے، وہاں پر مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور بی جے پی کی لڑائی کے درمیان ریاست کے مسلمان پس رہے ہیں۔ بی جے پی نے مغربی بنگال میں پہلے جے شری رام اور اب بجرنگ بلی کو اپنا مدا بنا لیا ہے۔ بجرنگ بلی کے نام پر ترنمول کانگریس کو گھیرنے کے لئے اب بی جے پی یوا مورچہ نے ہاوڑا کے بالی کھلا میں منگل کو سڑک پر ہنومان چالیسہ کا پاٹھ کیا۔ جس کی وجہ سے وہاں پر کافی دیر تک ٹریفک جام رہا۔

سڑک پر ہنومان چالیسہ کے پاٹھ میں بی جے پی یوا مورچہ کے صدر اوم پرکاش شرما اور پرینکا شرما سمیت کئی بی جے پی کارکنان نے حصہ لیا۔ بی جے پی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جب ایک مذہب کے لوگ جمعہ کے دن راستے میں بیٹھ کرنماز پڑھ سکتے ہیں تو پھر وہ منگل کے دن سڑک پر ہنومان چالیسہ کیوں نہیں پڑھ سکتے؟

بی جے پی رہنماؤں نے دعوی کیا ہے کہ اب ہاوڑا میں ہر منگل کو سڑک پر ہنومان چالیسہ کا پاٹھ کیا جائے گا اور اگر آنے والے جمعہ کے دن سڑک پر نماز پڑھی گئی تو پھر وہ اس کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ ویسے مسلم مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو سڑک پر نماز پڑھنے سے پرہیز کرنا چاہیے اور مذہبی فرائض ادا کرنے سے کسی کو کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے اور نہ اس میں دکھاوے کی جھلک نظر آنی چاہیے۔ واضح رہے نماز جمعہ کی وجہ سے جو ٹریفک جام ہوتا ہے اس سے کئی لوگوں کو اور ان میں بھی کئی مرتبہ مریضوں کو بھی پریشانی ہوتی ہے۔

Published: 26 Jun 2019, 3:10 PM