’جب تک سانس نہ رک جائے پھانسی پر لٹکائے رہنا‘، عدالت نے زانی کو سنائی سخت سزا

بہار کے ارریہ میں پیش آئے عصمت دری کے واقعہ پر سنائے گئے ایک فیصلے میں عدالت نے کہا کہ قصوروار کو تب تک پھانسی پر لٹکائے رکھا جائے جب تک کہ اس کی آخری سانس رک نہ جائے۔

علامتی تصویر، آئی اے این ایس
علامتی تصویر، آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

بہار میں ایک عدالت نے 48 سالہ شخص کو 6 سالہ کی معصوم بچی کے ساتھ عصمت دری کرنے کا قصوروار پایا ہے اور اسے پھانسی کی سزا سنائی ہے۔ بہار کے ارریہ میں یہ شرمناک واقعہ تقریباً دو ماہ قبل پیش آیا تھا جس کے خلاف معصوم بچی کے گھر والوں نے تھانہ میں شکایت کی تھی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ارریہ کے اے ڈی جے-6 و پاکسو ایکٹ کے خصوصی جج ششی کانت رائے کی عدالت نے ضلع کے بھرگاما تھانہ حلقہ کے ویر نگر مغرب کے رہنے والے مرحوم شمشیر کے بیٹے ملزم محمد میجر کو پھانسی کی سزا سنائی۔

پربھات خبر میں شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تعزیرات ہند کی دفعہ 376 کے تحت پھانسی کی یہ سزا سنائی گئی ہے۔ علاوہ ازیں دفعہ 3(2)(5) ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت تاحیات قید بامشقت اور 10 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں، پاکسو ایکٹ کے تحت متاثرہ کو 10 لاکھ روپے معاوضہ دیے جانے کا بھی حکم ہوا ہے۔


آج تک پر بھی اس سلسلے میں ایک خبر شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جمعرات کو سنائے گئے اس فیصلے میں عدالت نے کہا کہ قصوروار کو تب تک پھانسی پر لٹکائے رکھا جائے جب تک کہ اس کی آخری سانس رک نہ جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ متاثرہ کی ماں کی شکایت کے پولیس نے معاملہ درج کر لیا گزشتہ 20 جنوری کو عدالت نے اس معاملے میں نوٹس لیا۔ بعد ازاں 22 جنوری کو اس معاملے میں ملزم کے خلاف ثبوت پیش کیے گئے۔

عصمت دری کے ملزم کو فوری اور سخت سزا ملنے کے بعد یہ معاملہ موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ ضلع اور متاثرہ کنبہ کے لوگ عدالت کے اس فیصلے سے کافی خوش نظر آ رہے ہیں۔ متاثرہ بچی کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ قصوروار شخص کو سزائے موت دیے جانے کی خبر دل کو کافی حد تک سکون پہنچانے والی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔