آج باپو ہوتے تو ’کسان تحریک‘ کی قیادت کر رہے ہوتے

مہاتما گاندھی اپنے اصولوں کے ساتھ ہمارے درمیان تو ہیں ہی، کئی طرح کے سوالات کے ساتھ بھی اکثر ہمارے سامنے کھڑتے ہوتے ہیں، مثلاً گاندھی جی ہوتے تو کیا کر رہے ہوتے، کسان تحریک پر وہ کیا کہتے، وغیرہ۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

مہاتما گاندھی نے ترقی کے پیمانے میں آخری کسوٹی آخری آدمی کو مانا تھا۔ گاندھی پیدواریت پر مبنی سماج کی تعمیر کرنا چاہتے تھے، اس لیے کہا تھا کہ آخری آدمی ترقی کی کسوٹی ہے۔ آج وہ سب آخری شخص ہیں جو کسی نہ کسی شکل میں خام مال کا پروڈکشن کرتے ہیں۔ اور یہ خام مال ہماری بنیادی ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ کسانوں کا بھی شمار انہی میں ہوتا ہے۔

تو گاندھی آزادی کے بعد ہوتے، تو انھوں نے کسانوں کو اس ملک کے انتظام کی بنیاد میں مضبوطی سے شامل کیا ہوتا اور کسانوں کو بازار اور سرکار کے بھروسے نہیں چھوڑ دیا ہوتا۔ کسانوں کو اس حد تک آزاد، خود مختار اور طاقتور بنایا گیا ہوتا کہ آج کسان نظام پر کنٹرول کر رہے ہوتے۔ اس لیے آج کی کسان تحریک میں ہم ایک امید کی، بنیادی تبدیلی کی شمع دیکھ رہے ہیں۔ گاندھی آج ہوتے تو کسانوں کے ساتھ ہوتے، ان کی قیادت کر رہے ہوتے۔


میں اپنی طرف سے کہوں تو آج کسان تحریک میں گاندھی موجود ہیں۔ دو تین اسباب سے۔ پہلا یہ کہ کسان تحریک میں متنوع نظریات کے، کئی تنظیموں کے لوگ ہیں، لیکن کسان سنیوکت مورچہ نے طے کیا ہے کہ ہماری پالیسی وہی ہوگی جس پر سب ایک رائے ہوں گے۔ ایک رائے ہو کر فیصلہ کرنا گاندھی کا ہی نظریہ ہے۔

دوسری بات، انھوں نے طے کیا ہوا ہے کہ ہماری تحریک پرامن رہے گی، میں عدم تشدد کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہتا، لیکن یہ پرامن لفظ عدم تشدد کی طرف ہی لے جاتا ہے۔ اس لیے کسانوں کی جو امن پسندی ہے، متحد ہو کر فیصلہ لینے کی روش ہے، اس میں گاندھی جی موجود ہیں۔ اور دنیا کی تاریخ میں یہ جو اتنی بڑی تحریک چل رہی ہے، اس میں کہیں ’ڈیویشن‘ نہیں آیا ہے، یہ بہت اہم بات ہے۔ ہم سب گاندھی وادی فیملی کے لوگ غازی پور بارڈر گئے تھے۔ وہاں لوگوں کے نظریاتی عزائم نے ہمیں متاثر کیا۔


ہم مانتے ہیں کہ آج گاندھی ہوتے تو کسانوں کی تحریک کی قیادت کر رہے ہوتے، تو شاید یہ حالت ہی نہیں آئی ہوتی جو آج آئی ہے۔ آج پروڈیوسر سب سے زیادہ غریبی میں جی رہا ہے، اسے غریبی میں جینے کے لیے مجبور کیا گیا ہے۔ آج گاندھی ہوتے تو شاید یہ کارپوریٹ کا ہندوستان نہیں ہوتا۔ تعمیری کام میں لگے ہوئے پروڈیوسرز کا سماج ہوتا، مزدوروں کا سماج ہوتا۔ آپ نے دیکھا کہ آزادی کے بعد ہندوستان قوت مزدور میں خوشحال ملک تھا، اور پونجی میں امیر تھا۔ مزدوروں کی قوت کو ہم نے خوشحالی میں بدلنے کی پالیسی نہیں اختیار کی اور پونجی کو لگاتار تحفظ فراہم کیا اور اسے بڑھنے کا موقع دیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج محنت کرنے والے، پیداوار کرنے والے اور خوشحالی بڑھانے والے لوگ حاشیے پر ہیں اور کارپوریٹس ہر چیز پر کنٹرول کر رہے ہیں۔ آج جمہوریت ہے نہیں، صرف پونجی نظام ہے۔ گاندھی کے نظریات اور گاندھی کے اصول آج کسانوں کی قیادت کر رہے ہیں، اس لیے گاندھی آج بھی ہیں۔ یہ لوگ کتنا بھی ڈھول پیٹ لیں، لیکن گاندھی کو مار نہیں سکتے۔

(رام چندر راہی کی سدھانشو گپت سے بات چیت پر مبنی)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔