آج گیان واپی معاملے کی سماعت وارانسی کے ضلع جج کریں گے، سپریم کورٹ نے کیس منتقل کرنے کا دیا تھا حکم

جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، سوریہ کانت اور پی ایس نرسمہا کی بنچ نے حکم دیا تھا کہ اتر پردیش اعلٰی جوڈیشل سروس کے "سینئر اور تجربہ کار" عدالتی افسر کو اس معاملے کی تحقیقات کرنی چاہیے۔

گیان واپی مسجد اور سپریم کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
گیان واپی مسجد اور سپریم کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

گیان واپی مسجد میں کئے گئے سروے کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد وارانسی کے ضلع جج کی عدالت میں آج سے اس کیس کی سماعت شروع ہوگی۔ دراصل سپریم کورٹ نے جمعہ کو کیس کی سماعت ڈسٹرکٹ جج کو سونپ دی تھی۔ اس حکم کی کاپی ہفتہ کو ڈسٹرکٹ جج اجے کمار وشویش کی عدالت میں پہنچی۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ سپریم کورٹ نے ڈسٹرکٹ جج کو بھی اس کیس کی سماعت 8 ہفتوں میں مکمل کرنے کو کہا ہے۔

جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، سوریہ کانت اور پی ایس نرسمہا کی بنچ نے حکم دیا ہے کہ اتر پردیش اعلٰی جوڈیشل سروس کے ایک "سینئر اور تجربہ کار" عدالتی افسر کو اس معاملے کی تحقیقات کرنی چاہیے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ گیان واپی مسجد کیس کے جج جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے کہا تھا کہ ڈسٹرکٹ جج کو خود اس معاملے کی سماعت کرنی چاہیے، عدالت نے اپنی تجویز میں کہا تھا کہ ضلعی عدالت کو حد سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس سارے عمل میں دونوں فریق کے درمیان امن اور بھائی چارہ قائم رہنا چاہیے اور ہمیں توازن برقرار رکھنا چاہیے۔


وہیں ہندو فریق نے عدالت میں کہا کہ وارانسی کورٹ کی سوچ پر سوال نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔ جس کے جواب میں عدالت نے کہا کہ ہم ضلعی عدالت کو ہدایت نہیں دیں گے، ڈسٹرکٹ جج پہلے فیصلہ کریں کہ کیا کرنا ہے۔ سپریم کورٹ نے سروے رپورٹ پر مسلم فریق سے کہا کہ ہم ہر حقیقت کا جائزہ لیں گے۔ سروے رپورٹ پبلک نہ کی جائے۔ بتادیں کہ کاشی وشوناتھ مندر-گیان واپی مسجد کمپلیکس کی ویڈیو گرافی سروے رپورٹ جمعرات کو عدالت میں پیش کی گئی، کورٹ کمشنر وشال سنگھ نے اپنی رپورٹ پیش کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔