چیف جسٹس نے سول اسپتال پر چھاپہ ماری کی بات کہنے والی گجرات ہائی کورٹ بنچ کو ہی بدل دیا!

گجرات ہائی کورٹ کی جس بنچ نے کہا تھا کہ احمد آباد کے سول اسپتال پر چھاپہ ماری کی جائے تاکہ واضح ہو سکے کہ وہاں کیا حالات ہیں، اسی بنچ کو گجرات ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے بدل دیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

گجرات ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے 28 مئی کو نیا حکم جاری کر ہائی کورٹ کے جسٹس جے بی پردی والا اور جسٹس الیش جے ووہرا کی بنچ کو بدل دیا۔ ان کی جگہ نئی بنچ تشکیل دی ہے جس میں خود گجرات ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس جے بی پردی والا بیٹھیں گے۔ اس کے ساتھ ہی کرائسس کے معاملوں کی جو دوسری بنچ بنائی گئی ہے، جسٹس الیش جے ووہرا کو اس میں بھیج دیا گیا ہے، جہاں وہ جسٹس آر ایم چھایا کے ساتھ معاملوں کی سماعت کریں گے۔

جسٹس جے بی پردی والا اور جسٹس الیش جے ووہرا کی بنچ نے ہی گجرات کے احمد آباد واقع سول اسپتال میں چھاپہ مارنے کی بات کہی تھی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ بنچ ہی نہیں رہی جس نے چھاپہ ماری کی بات کہی تھی تو اب کیا کوئی احمد آباد کے سول اسپتال کا اچانک جائزہ لے پائے گا، جہاں کے بارے میں خود عدالت نے تبصرہ کیا تھا کہ دن میں چار چار مریض مر رہے ہیں۔

دراصل گجرات ہائی کورٹ نے اسی ماہ کورونا بحران کے دوران مہاجر مزدوروں، غریب مریضوں اور سرکاری انتظامات پر کئی ہدایات جاری کیے تھے۔ مہاجر مزدوروں کی مصیبتوں پر سب سے پہلے گجرات ہائی کورٹ نے ہی نوٹس لیا تھا۔ اس کے بعد غریب مریضوں کی دیکھ بھال، اسپتالوں میں وینٹی لیٹر کی کمی، ڈاکٹروں اور دوسرے ہیلتھ ورکرس کے لیے سیکورٹی انتظامات پر جسٹس جے بی پردی والا اور جسٹس الیش جے ووہرا کی بنچ نے لگاتار گجرات کی بی جے پی حکومت کو لتاڑ لگائی تھی۔

چیف جسٹس نے سول اسپتال پر چھاپہ ماری کی بات کہنے والی گجرات ہائی کورٹ بنچ کو ہی بدل دیا!

گجرات کی بی جے پی حکومت کو لتاڑ لگانے سے لے کر مہاجر مزدوروں کی حالت پر سخت تبصرہ تک ساری ہدایات جسٹس جے بی پردی والا اور جسٹس الیش جے ووہرا کی بنچ سے جاری ہوئے تھے۔ اسی ہفتہ پیر کو اس بنچ نے گجرات کی بی جے پی حکومت کو زبردست پھٹکار لگاتے ہوئے کہا تھا کہ اب وہ احمد آباد کے سول اسپتال کا اچانک جائزہ لیں گے، حکومت تیار رہے۔ بنچ نے کہا تھا کہ اب سول اسپتال میں چھاپہ مار کر یہ دیکھا جائے گا کہ مریضوں کا علاج ٹھیک سے ہو رہا ہے، یا حکومت سول اسپتال میں علاج کرانے والے غریبوں کی تیمارداری میں کمی کر رہی ہے۔

لیکن اس سے پہلے کہ دونوں ججوں کی یہ بنچ کچھ کر پاتی، گجرات ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وکرم ناتھ نے ان ججوں کی بنچ بدل دی ہے۔ جمعرات 28 مئی کو گجرات ہائی کورٹ کی ویب سائٹ پر نیا آرڈر اَپ لوڈ کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ معزز چیف جسٹس نے بحران کے اس وقت میں سول اور کریمنل معاملوں کے لیے جو انتظام کیے ہیں، اس میں انھوں نے دو ڈویژنل بنچ بنائی ہے۔ پہلی بنچ میں چیف جسٹس وکرم ناتھ خود ہوں گے جن کے ساتھ جسٹس جے بی پردی والا ہوں گے۔ دوسری بنچ میں جسٹس آر ایم چھایا کے ساتھ جسٹس الیش جے ووہرا ہوں گے۔ دونوں ڈویژنل بنچ 29 مئی سے معاملوں کی ویڈیو کانفرنسنگ سے سماعت کریں گی۔

قابل غور ہے کہ عدالت میں اسی سے ملتا جلتا واقعہ اسی سال 2020 کے فروری میں دہلی ہائی کورٹ میں بھی دیکھنے کو ملا تھا۔ اس وقت شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے ایشو پر شمال مشرقی دہلی میں تشدد اور بی جے پی لیڈروں کے اشتعال انگیز بیانات کو لے کر دہلی ہائی کورٹ کے جج جسٹس مرلی دھر نے پولس اور حکومت کو پھٹکار لگائی تھی۔ اس پھٹکار کے بعد ان کا تبادلہ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کر دیا گیا تھا، جب کہ وہ ہائی کورٹ میں ججوں کی سینئریٹی فہرست میں تیسرے مقام پر تھے۔ دہلی ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن نے کالیجیم سے ٹرانسفر پر از سر نو غور کا مطالبہ کیا تھا، جس کے سبب دوسرے دو ججوں کے ٹرانسفر پر غور ہو رہا تھا۔