5 جون سے مساجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت

بحرین نے بھی خلیجی عرب ممالک کی طرح مساجد میں پنج وقتہ نمازوں کے علاوہ نماز جمعہ کی ادائیگی موقوف کردی تھی اور مسلم عبادت گزاروں کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اپنے گھروں ہی میں نماز ادا کریں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بحرین کی وزارتِ انصاف، اسلامی امور اور وقف نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''5 جون سے مساجد میں نماز جمعہ کی باجماعت ادائیگی کی جا سکتی ہے لیکن مساجد کے منتظمین کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حفاظتی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے پابند ہوں گے اور کووِڈ-19 بحران سے متعلق فیصلے وقتاً فوقتاً صورت حال کے جائزے کی روشنی میں کیے جائیں گے۔''

بحرین نے مارچ کے آخر میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے دوسرے خلیجی عرب ممالک کی طرح مساجد میں پنج وقتہ نمازوں کے علاوہ نماز جمعہ کی ادائیگی موقوف کردی تھی اور مسلم عبادت گزاروں کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اپنے گھروں ہی میں نماز ادا کریں۔ دریں اثناء بحرین کی وزارت صحت نے کرونا وائرس کے 285 نئے کیسوں کی اطلاع دی ہے اور اب ملک میں کل تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد 9977 ہوگئی ہے۔

وزارت نے بتایا ہے کہ کرونا وائرس کے نئے کیسوں میں زیادہ تر غیرملکی تارکین وطن ہیں اور ان کی تعداد 208 ہے، باقی 77 بحرینی شہری ہیں۔ وہ پہلے سے متاثرہ افراد سے گھلنے ملنے کی وجہ سے اس مہلک وبا کا شکار ہوئے ہیں۔ وزارت صحت نے 143 افراد کے صحت یاب ہونے کی بھی اطلاع دی ہے اور اب کل شفایاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 5295 ہوگئی ہے جبکہ اس ننھی خلیجی ریاست میں کرونا وائرس سے صرف 15 مریضوں کی وفات ہوئی ہے۔

بحرینی حکومت نے بدھ کو حجاموں کی دکانیں اور خواتین کے بیوٹی پارلر دوبارہ کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس کے بعد وزارت صحت نے متعدد دکانوں پر چھاپا مار کارروائیاں کی ہیں اور ان دکانوں کا جائزہ لیا ہے کہ آیا وہاں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے رہ نما ہدایات اور حفاظتی احتیاطی تدابیر کی پاسداری کی جارہی ہے۔

بحرین نے مارچ کے آخر میں غیر ضروری کاروباروں اور دکانوں کو بند کردیا تھا اور غیرملکیوں کے ملک میں داخلے پر پابندی عاید کردی تھی لیکن دوسری خلیجی ریاستوں کی طرح کرفیو نافذ نہیں کیا تھا۔ واضح رہے کہ بحرینی حکومت نے رمضان سے قبل ہائپر مارکیٹوں، سُپر مارکیٹوں، کولڈ اسٹورز، قصاب، سبزی فروشوں اور مچھلی یا گوشت کو دکانوں کو کھلا رکھنے کی اجازت دے دی تھی۔ ان کے علاوہ ہرقسم کی بیکریاں، پیٹرول اور گیس اسٹیشن، اسپتال، کلینکس، دواخانے اور امراض چشم کی دکانیں کھلی ہیں۔

ان اداروں کے دفاتر بھی کھلے ہیں جو اشیاء درآمد کرتے یا تقسیم کرتے ہیں۔ گاڑیوں کی ورکشاپیں اور فاضل پرزہ جات کی دکانیں، تعمیراتی صنعت کے ادارے کھلے ہیں اور بنک اور کرنسی کے لین دین کا کام کرنے والی ایجنسیوں کے علاوہ فیکٹریوں اور مینو فیکچرنگ کمپنیوں کو بھی کھولنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

(بشکریہ العربیۃ ڈاٹ نیٹ)

Published: 29 May 2020, 1:11 PM
next