گجرات میں بغیر لائسنس کاسمیٹکس کی تیاری کا انکشاف، 2.68 لاکھ روپے سے زائد کا اسٹاک ضبط
گجرات میں ایف ڈی سی اے نے بغیر لائسنس کاسمیٹکس کی تیاری اور ری پیکیجنگ پر 2.68 لاکھ روپے سے زائد کا سامان ضبط کیا۔ الگ کارروائی میں جعلی بلڈ پریشر ادویات کا نیٹ ورک پکڑا گیا

احمد آباد: گجرات کے احمد آباد میں غذائی و ادویاتی کنٹرول انتظامیہ (ایف ڈی سی اے) نے بغیر ضروری لائسنس کاسمیٹک مصنوعات تیار کرنے اور انہیں دوبارہ پیک کرنے کے الزام میں ایک فرم کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 2.68 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا کاسمیٹک اسٹاک، خام مال، پیکیجنگ میٹریل اور پرنٹ شدہ لیبل ضبط کیے ہیں۔ حکام کے مطابق معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ایف ڈی سی اے کی ٹیم نے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر 25 اگست کو احمد آباد کے تراگڑ علاقے میں واقع ’آنکی ہربل‘ کا اچانک معائنہ کیا۔ محکمہ کے مطابق ابتدائی جانچ میں سامنے آیا کہ فرم مبینہ طور پر ضروری لائسنس حاصل کیے بغیر اور معیار کی جانچ کرائے بغیر مختلف کاسمیٹک مصنوعات تیار کر رہی تھی۔ اس کے علاوہ تھوک پیک میں موجود مصنوعات کو دوبارہ پیک کیے جانے کا بھی انکشاف ہوا۔
کارروائی کے دوران حکام نے فیئرنس کریم، ڈارک سرکل کریم، شیمپو، ہیئر آئل، باڈی واش، فیس واش، اسکرب، سالڈ پرفیوم اور گلیسرین پر مبنی صابن سمیت مختلف مصنوعات کا اسٹاک ضبط کیا۔ خام مال، پیکیجنگ کا سامان اور مصنوعات پر لگانے کے لیے تیار کیے گئے پرنٹ شدہ لیبل بھی قبضے میں لیے گئے۔ محکمہ کے مطابق ضبط کیے گئے سامان کی مجموعی مالیت 2.68 لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ مذکورہ سرگرمی میں استعمال ہونے والا ہول سیل مال احمد آباد کے اوڈھو علاقے میں واقع ’روی مارکیٹنگ‘ سے خریدا گیا تھا۔ ایف ڈی سی اے نے بتایا کہ شِوانتا ریگل میں واقع ایک فلیٹ میں کاسمیٹک مصنوعات کی غیر مجاز پیکیجنگ کی جا رہی تھی اور گلیسرین صابن تیار کیا جا رہا تھا۔
اس معاملے کی تحقیقات کا دائرہ اب ’روی مارکیٹنگ‘ تک بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ حکام نے وہاں سے 10 مختلف کاسمیٹک مصنوعات کے نمونے حاصل کیے ہیں، جنہیں معیار کی جانچ کے لیے لیبارٹری بھیجا گیا ہے۔ ان تجزیاتی رپورٹس کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔
دریں اثنا، احمد آباد سٹی کرائم برانچ اور ایف ڈی سی اے نے جعلی بلڈ پریشر کی دوا تیار کرنے، خریدنے اور سپلائی کرنے کے الزام میں ایک بین ریاستی نیٹ ورک کا بھی پردہ فاش کیا ہے۔ اس کارروائی میں احمد آباد اور لکھنؤ سے تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب انکلیشور کی ایک دوا ساز کمپنی نے ایف ڈی سی اے کو ’نیکارڈیا ریٹارڈ 10‘ کے مبینہ جعلی ورژن کی مارکیٹ میں دستیابی سے آگاہ کیا۔ یہ دوا ہائی بلڈ پریشر کے علاج میں استعمال ہونے والی نِفیڈیپائن کی سسٹینڈ ریلیز دوا ہے۔
تفتیش کے دوران نادیاد کے کشن میڈیکل اسٹور سے مشتبہ جعلی دوا کی 30 اسٹرپس برآمد ہوئیں، جبکہ بھُج کے نوکار میڈیکل ایجنسی اور مہادیو میڈیکل ایجنسی سے بھی اسٹاک ضبط کیا گیا۔ حکام نے اس سپلائی کے تعلق کا سراغ جے پور کی ’اے وی آر میڈیکوز‘ تک پہنچنے کا دعویٰ کیا ہے۔
گرفتار افراد کی شناخت احمد آباد کے 39 سالہ دشیل سنگھوی، لکھنؤ کے 39 سالہ دیویندر یادو اور 34 سالہ امنگ رستوگی کے طور پر ہوئی ہے۔ معاملے میں کرائم برانچ نے کیس درج کر لیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
