گراؤنڈ رپورٹ: 'بوالی' ہو گئیں بازار میں سبزی کی قیمتیں، بن رہے مار پیٹ جیسے حالات

منڈی میں پھل اور سبزی کے تاجر بتاتے ہیں کہ سب جمع خوری کا کھیل ہے۔ منڈی میں ہی سبزی کم آ رہی ہے۔ دوسری طرف اب بڑے کسان بھی خود اسٹاک کرنے لگے ہیں۔

تصویر آس محمد کیف
تصویر آس محمد کیف
user

آس محمد کیف

مظفر نگر کے میرا پور باشندہ یونس سلیم جامع مسجد علاقے میں سبزی کی ایک دکان پر زور لگا کر بحث کر رہے ہیں۔ آس پاس کچھ لوگ اکٹھا ہو گئے ہیں۔ یونس کا کہنا ہے کہ انھوں نے نصف کلو ساگ لیا ہے۔ دکاندار کے لڑکے نے اسے 70 روپے کلو بتایا۔ اسی ساگ پر اس نے پانی کا چھڑکاؤ کر دیا۔ پانی کے بعد اس کا وزن بڑھ گیا۔ وہ کہتے ہیں "میں پہلے ہی مہنگا دیکھ کر کم میں گزارہ کر رہا ہوں، لیکن اب 100 گرام وزن پانی کا بڑھ جائے گا۔"

بحث کے بعد یونس جب چلے جاتے ہیں تو دکاندار مونو کہتے ہیں "ساگ مہنگا ہے، خریدار نہیں ملتا تو رکھا ہوا خراب ہو جاتا ہے اور اسے صاف کرتے ہیں تو وزن کم ہو جاتا ہے۔ پانی سے تھوڑا لائف بڑھ جاتی ہے اور کچھ اوسط بھی آ جاتا ہے۔ گاہک ہماری پریشانی کو سمجھتے نہیں ہیں۔ ہمیں نقصان کہیں سے تو نکالنا ہوگا۔"

آلو سبزیوں کا راجہ ہے اور اس کا استعمال تقریباً ہر سبزی کے ساتھ ہوتا ہے۔ 25 سال سے سبزی فروخت کرنے والے ارشاد کہتے ہیں کہ انھوں نے اتنا مہنگا آلو کبھی نہیں فروخت کیا۔ ٹماٹر اور پیاز 60 روپے سے 80 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، لیکن وہ پہلے بھی اس قیمت تک پہنچ چکے ہیں، فکر آلو کی قیمت کو لے کر ہے جو لگاتار بڑھ رہی ہے۔

گراؤنڈ رپورٹ: 'بوالی' ہو گئیں بازار میں سبزی کی قیمتیں، بن رہے مار پیٹ جیسے حالات
گراؤنڈ رپورٹ: 'بوالی' ہو گئیں بازار میں سبزی کی قیمتیں، بن رہے مار پیٹ جیسے حالات
گراؤنڈ رپورٹ: 'بوالی' ہو گئیں بازار میں سبزی کی قیمتیں، بن رہے مار پیٹ جیسے حالات

ایک دوسرے سبزی والے دکاندار کے یہاں ایک برقع نشیں عورت پوچھتی ہیں "بھائی سب سے سستی سبزی کون سی ہے۔" یہ بے حد عجیب و غریب سوال ہے۔ اب پسند سے نہیں، ضرورت سے سبزی خریدی جا رہی ہے۔ دکاندار بتاتا ہے کہ ایسے تو مولی سب سے سستی ہے جو ابھی 10 روپے کلو ہے اور جسے زیادہ تر لوگ سلاد میں کھاتے ہیں۔ خاتون آلو کی قیمت جاننا چاہتی ہے اور حیرت زدہ ہو جاتی ہے کہ آلو 40 روپے کلو ہے۔ نیا آلو تو 60 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے۔

میرا پور جیسے قصبوں میں سبزی کی قیمت کا حساب کچھ اس طرح ہے: بھنڈی 40 روپے، ٹماٹر 60 روپے، شملہ مرچ 120 روپے، چنے کا ساگ 70 روپے، لاکی 40 روپے اور بیگن 40 روپے۔ شہروں میں آپ اس قیمت میں 10 فیصد کا اضافہ کر سکتے ہیں۔ ایک عام گھریلو عورت گیتا شرما بتاتی ہیں کہ سستی تو دال بھی نہیں ہے۔ قیمت تو اس کی بھی آسمان چھو رہی ہے۔ سبزیوں کی قیمت تو اکثر گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں، لیکن آلو پر زبردست مہنگائی ہے، جب کہ وہ سب سے بڑی ضرورت کی سبزی ہے۔

منڈی میں پھل اور سبزی کے تاجر حاجی انور کہتے ہیں کہ سب اسٹاکنگ کا کھیل ہے۔ منڈی میں سبزی کم آ رہی ہے۔ پروڈکشن بھی کم ہوا ہے۔ کسانوں کی دلچسپی کمزور ہوئی ہے اور بڑے کسان خود اسٹاک کرنے لگے ہیں۔ انور بتاتے ہیں کہ آلو کی کچھ سال پہلے بری گت ہوئی تھی۔ آلو کو سڑکوں پر پھینکا جا رہا تھا۔ اس برے حشر کے بعد آلو کسانوں نے اس میں دلچسپی لینی کم کر دی، جس کے بعد یہ حالات پیدا ہوئے ہیں۔

گراؤنڈ رپورٹ: 'بوالی' ہو گئیں بازار میں سبزی کی قیمتیں، بن رہے مار پیٹ جیسے حالات

ایک خاتون خانہ شیلی (24 سال) بتاتی ہیں کہ پہلے مسئلہ پکانے کے لیے سبزی کے انتخاب کا رہتا تھا، لیکن اب تو متبادل ہی نہیں ہے۔ کم سبزی میں زیادہ پانی ملا کر بجٹ کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ عجیب حالات ہیں کہ کام بھی متاثر ہو گئے ہیں او رکھانے پینے کی چیزوں کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ شیلی ایک پرائیویٹ اسکول میں ٹیچر ہیں اور کہتی ہیں "تنخواہ نصف ہو گئی ہے تو حکومت کو کھانے پینے کی چیزوں کی قیمت کو بھی نصف کرنا چاہیے تھا، لیکن وہ تو دوگنی ہو گئی ہے۔"

اسی دوران سبزی خریدنے پہنچنے رویندر کمار 15 منٹ صرف قیمت پوچھنے پر خرچ کرتے ہیں اور اس کے بعد گھر والی سے مشورہ کر کے واپس چل دیتے ہیں۔ رویندر خود کسان ہیں اور وہ کہتے ہیں "اب من بنا رہا ہوں کہ اپنی زمین کے ایک حصے پر سبزی کی ہی کھیتی کروں، کم از کم بازار سے خریدنی تو نہیں پڑے گی۔"

علاقے کے ہی ایک مقامی اسکول پرنسپل دیپک دھیمان تو ایسا 6 مہینوں سے کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں "پہلے تو ایسا اس لیے شروع کیا تھا تاکہ باہر نہ جانا پڑے اور ملاوٹ سے چھٹکارا مل جائے، لیکن سبزی پر آئی مہنگائی کو دیکھتے ہوئے یہ تیر نشانے پر لگ گیا ہے۔"

کانگریس کے مغربی اتر پردیش کے انچارج اور یوتھ کسان لیڈر پنکج ملک کہتے ہیں کہ مہنگائی سر چڑھ گئی ہے۔ ٹماٹر کی قیمتوں پر چمٹے-تسلی لے کر سڑک پر اترنے والی میڈم آج حکومت میں ہیں۔ اب ایک ٹماٹر نہیں، سبھی سبزیوں پر مہنگائی کی آفت ہے۔ مودی حکومت کے نئے زرعی قوانین حالات کو مزید بگاڑ دیں گے۔ پیسے والے لوگ اسٹاک جمع کر لیں گے اور اپنی مرضی سے منمانی قیمت پر فروخت کریں گے۔ یہ صرف ٹریلر ہے۔ کسان بری طرح ہمت ہار چکا ہے اور اس کی پیداوار میں دلچسپی کم ہو رہی ہے۔ اس وقت کسانوں کی حوصلہ افزائی بہت ضروری ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔