گریٹر نوئیڈا: پنجاب نیشنل بینک میں بدعنوانی کا انکشاف، اکاؤنٹ ہولڈرز کے کھاتوں سے کروڑوں روپے کی ’فکسڈ ڈپازٹ‘ غائب

پولیس نے معاملے کی تحقیقات اور ضروری قانونی کارروائی کے لیے اے سی پی گریٹر نوئیڈا کو ہدایت دی ہے۔ پولیس کے مطابق اب تک 16 افراد شکایت درج کرا چکے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>پنجاب نیشنل بینک /&nbsp;تصویر: سوشل میڈیا</p></div>
i

گریٹر نوئیڈا کے سیکٹر پائی-1 میں واقع پنجاب نیشنل بینک کی شاخ سے اکاؤنٹ ہولڈرز کے کروڑوں روپے مبینہ طور پر غائب ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ بینک ملازمین نے کئی اکاؤنٹ ہولڈرز کی فکسڈ ڈپازٹ (ایف ڈی) کی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی توڑ کر رقم دوسرے کھاتوں میں منتقل کر دی۔ کچھ اکاؤنٹ ہولڈرز نے اپنے کھاتوں سے لاکھوں روپے غائب ہونے کی شکایت کی ہے۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد بینک کے علاقائی دفتر نے برانچ منیجر سمیت 5 ملازمین کو معطل کر دیا ہے۔ اب تک ایک درجن سے زیادہ افراد پولیس میں شکایت درج کرا چکے ہیں۔ پولیس کے ساتھ بینک کی انسداد بدعنوانی ٹیم بھی معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق گریٹر نوئیڈا کے بیرونڈی گاؤں کے باشندہ گوتم نے بتایا کہ ان کے والد کا کھاتہ سیکٹر پائی-1 میں واقع پنجاب نیشنل بینک کی شاخ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہل خانہ کو 50 ہزار روپے کی ضرورت تھی۔ چیک بک نہ ہونے کی وجہ سے وہ بینک رقم نکالنے پہنچے۔ اس کے لیے انہوں نے فارم بھر کر بینک ملازمین کو دیا، لیکن انہیں بتایا گیا کہ کھاتے میں کافی رقم نہیں ہے۔ گوتم کے مطابق ان کے والد کے کھاتے میں تقریباً 94 لاکھ روپے تھے، لیکن بینک میں پتہ چلا کہ کھاتے میں صرف 16 ہزار روپے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔ گوتم کا کہنا ہے کہ فی الحال بینک انتظامیہ کی جانب سے انہیں یقین دہانی کرائی گئی ہے۔


ایک اور اکاؤنٹ ہولڈر نے بتایا کہ ان کی والدہ کے کھاتے میں جیور ایئرپورٹ زمین کے حصول کا معاوضہ تقریباً ایک کروڑ 29 لاکھ روپے آیا تھا۔ کنبے نے ضرورت کے مطابق اس میں سے تقریباً 10 سے 12 لاکھ روپے نکالے تھے۔ اکاؤنٹ ہولڈر کے مطابق اس کے بعد کھاتے میں تقریباً ایک کروڑ 18 لاکھ روپے ہونے چاہیے تھے، لیکن اب کھاتے میں ایک روپیہ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کنبے کو پیسوں کی ضرورت تھی۔ اسی دوران واقف کاروں کے ذریعہ انہیں بینک میں مبینہ گڑبڑی کی اطلاع ملی۔ اکاؤنٹ ہولڈر کا کہنا ہے کہ بینک کی جانب سے انہیں 10 سے 15 دنوں کے اندر رقم واپس ملنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ حالانکہ کنبہ اب پولیس میں شکایت درج کرانے کی تیاری کر رہا ہے۔

معاملہ سامنے آنے کے بعد پنجاب نیشنل بینک کے سینئر افسران آج بینک پہنچے اور انہوں نے لوگوں کو یقین دہانی کرائی۔ بینک کی جانب سے کارروائی کرتے ہوئے 5 ملازمین کو معطل کر دیا گیا ہے اور شاخ میں نئے عملے کی تعیناتی کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی معاملے میں لاپروائی برتنے اور مبینہ گڑبڑی کرنے والوں کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ حالانکہ بینک کی جانب سے اب تک پورے معاملے کے حوالے سے تفصیلی سرکاری معلومات عام نہیں کی گئی ہیں۔ ایسے میں کتنے اکاؤنٹ ہولڈر کی رقم متاثر ہوئی ہے اور مبینہ طور پر رقم کن کھاتوں میں منتقل کی گئی، اس سے متعلق صورتحال واضح نہیں ہے۔


نوئیڈا پولیس کمشنریٹ کے ترجمان نے بتایا کہ تھانہ بیٹا-2 کے علاقے میں واقع بینک میں اکاؤنٹ ہولڈرز کی شکایات کے ازالے کے لیے بینک انتظامیہ کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ اس معاملے میں برانچ منیجر سمیت کئی ملازمین کو معطل کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے معاملے کی تحقیقات اور ضروری قانونی کارروائی کے لیے اے سی پی گریٹر نوئیڈا کو ہدایت دی ہے۔ پولیس کے مطابق اب تک 16 افراد شکایت درج کرا چکے ہیں۔ فی الحال شکایات کی بنیاد پر معاملے کی تفتیش کی جا رہی ہیں۔ تحقیقات سے یہ واضح ہوگا کہ اکاؤنٹ ہولڈر کے کھاتوں سے رقم کس طرح نکالی گئی یا منتقل کی گئی اور اس معاملے میں کن لوگوں کا کردار رہا ہے۔