’دیش نہیں بکنے دوں گا‘ سے ’خود ہی سارا بیچوں گا‘ تک، آئی ڈی بی آئی بینک کی فروخت پر کانگریس کا مودی پر طنز

کانگریس نے آئی ڈی بی آئی بینک کے 60.72 فیصد حصص کی 52878 کروڑ روپے میں فروخت کی منظوری پر مودی کو نشانہ بنایا۔ پارٹی نے ان کے پرانے وعدے کو یاد دلاتے ہوئے طنز کیا کہ وہ خود ہی ملک فروخت کر رہے ہیں

<div class="paragraphs"><p>آئی ڈی بی آئی بینک کی فروخت پر کانگریس کا مودی پر طنز</p></div>
i

نئی دہلی: آئی ڈی بی آئی بینک میں 60.72 فیصد حصص فروخت کرنے کی مرکزی کابینہ کی منظوری کے بعد کانگریس اور سماج وادی پارٹی نے مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کے پرانے بیان کو یاد دلاتے ہوئے طنز کیا کہ ملک کو فروخت نہیں ہونے دینے کا وعدہ کرنے والے وزیر اعظم اب خود سرکاری اثاثے فروخت کر رہے ہیں۔ وہیں سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے حکومت کے فیصلے کو ’سیزن اینڈ سیل‘ قرار دیا ہے۔ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے اپوزیشن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے سابقہ یو پی اے حکومت کے دور میں بینکوں کی صورت حال پر سوال اٹھائے ہیں۔

کانگریس نے سوشل میڈیا پر ایک شارٹ ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں ایک طرف وزیر اعظم مودی کا پرانا بیان دکھایا گیا ہے، جس میں وہ کہتے ہیں، ’’میں نے قسم اٹھائی ہے، میں دیش نہیں بکنے دوں گا۔‘‘ دوسری طرف ایک نیوز چینل کی وہ خبر دکھائی گئی ہے جس میں آئی ڈی بی آئی بینک کے 60.72 فیصد حصص فروخت کرنے کی منظوری کی اطلاع دی جا رہی ہے۔

کانگریس نے مودی کے بیان والے فریم پر ’دیش نہیں بکنے دوں گا‘ اور بینک کی فروخت کی خبر والے فریم پر ’خود ہی سارا بیچوں گا‘ لکھا ہے۔ ویڈیو کے نچلے حصے میں ’دن رات دیش بیچ رہے پی ایم مودی‘ کا تبصرہ درج ہے۔ اس طرح پارٹی نے حکومت کے نجکاری کے فیصلے کو وزیر اعظم کے سابقہ وعدے سے جوڑتے ہوئے ان پر سیاسی طنز کیا ہے۔


سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بھی آئی ڈی بی آئی بینک کی فروخت پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ اب صرف حکومت کو فروخت کرنا باقی رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق، دکان بند ہونے کے قریب دیکھ کر بی جے پی حکومت نے ’سیزن اینڈ سیل‘ لگا کر سب کچھ فروخت کرکے نکلنے کا پروگرام بنا لیا ہے۔

نرملا سیتارمن کا اپوزیشن کو جواب

اکھلیش یادو کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ سماج وادی پارٹی نے 2004 سے یو پی اے حکومت کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس دور میں سرکاری بینکوں کی حالت خراب ہوئی اور ’فون بینکنگ‘ جیسے طریقوں سے بینکوں کو نقصان پہنچا۔ ان کے مطابق، موجودہ حکومت نے سرمایہ فراہم کرکے اور شفاف پالیسیوں کے ذریعے بینکنگ نظام کو مضبوط کیا ہے۔

مرکزی کابینہ کی اقتصادی امور کی کمیٹی نے 14 اکتوبر کو آئی ڈی بی آئی بینک کے 60.72 فیصد حصص فیئر فیکس فنانشیل ہولڈنگز کی ذیلی کمپنی کو فروخت کرنے کی منظوری دی۔ اس سودے کی مالیت 52,878 کروڑ روپے ہے۔ اس میں مرکزی حکومت کے 30.48 فیصد اور لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا (ایل آئی سی) کے 30.24 فیصد حصص شامل ہیں۔

سودا مکمل ہونے کے بعد حکومت کے پاس 15 فیصد اور ایل آئی سی کے پاس 19 فیصد حصص باقی رہیں گے۔ تاہم، حصص کی منتقلی اور انتظامی کنٹرول کی تبدیلی کے لیے متعلقہ ضابطہ جاتی منظوریوں سمیت دیگر شرائط پوری کرنا ضروری ہے۔ اس فیصلے نے سرکاری بینکوں کی نجکاری اور عوامی اثاثوں کی ملکیت سے متعلق سیاسی بحث کو ایک بار پھر تیز کر دیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔