’بینک مضبوط ہوئے ہیں تو پھر فروخت کیوں کیے جا رہے ہیں؟‘ سود سے لے کر یو پی آئی تک اکھلیش یادو کے حکومت سے 12 سوال
اکھلیش یادو نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’بینک مضبوط ہوئے ہیں تو ان لوگوں کو پکڑ کر ملک واپس لاکر سزا کیوں نہیں دی جا رہی، جو بینکوں سے کھربوں کا قرض لے کر فرار ہو گئے ہیں؟‘‘

سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کر کے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ’بارہ سال، بارہ سوال‘ کے عنوان سے بینکنگ نظام کے حوالے سے 12 سوال اٹھائے۔ اکھلیش یادو نے بینکوں کے مضبوط ہونے کے دعووں کے درمیان بینک کی شاخوں اور اے ٹی ایم بند ہونے، صارفین کے کھاتوں سے رقم کٹنے، سائبر دھوکہ دہی اور قرض سے متعلق مسائل پر سوالات کیے۔
اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں اکھلیش یادو ’بارہ سال، بارہ سوال‘ عنوان کے تحت لکھتے ہیں:
بینک مضبوط ہوئے ہیں تو پھر فروخت کیوں کیے جا رہے ہیں؟
بینک مضبوط ہوئے ہیں تو غریب عوام کے کھاتوں سے پیسے کیوں کاٹے جا رہے ہیں؟
بینک مضبوط ہوئے ہیں تو بار بار کے وائی سی کے نام پر عوام کو ان کے پیسے دینے سے انکار کیوں کیا جا رہا ہے؟
بینک مضبوط ہوئے ہیں تو ان لوگوں کو پکڑ کر ملک واپس لاکر سزا کیوں نہیں دی جا رہی، جو بینکوں سے کھربوں کا قرض لے کر فرار ہو گئے ہیں؟
بینک مضبوط ہوئے ہیں تو دیہی علاقوں میں بینک کی شاخیں اور اے ٹی ایم بند کر کے عوام کو نقد رقم کے لیے کیوں بھٹکایا جا رہا ہے؟
بینک مضبوط ہوئے ہیں تو کسانوں، طلبہ اور چھوٹے دکانداروں کو بغیر کسی بچولیے اور ضامن (گرانٹر) کے قرض کیوں نہیں مل رہا ہے؟
بینک مضبوط ہوئے ہیں تو سائبر دھوکہ دہی کا شکار ہونے والے غریب شخص کی رقم فوراً واپس کیوں نہیں کی جاتی؟ اسے تھانے اور بینک کے چکر کیوں لگوائے جاتے ہیں؟
بینک مضبوط ہوئے ہیں تو ہوم لون اور تعلیمی قرض پر سود اتنا زیادہ کیوں ہے کہ عام آدمی کی کمر ٹوٹ رہی ہے؟
بینک مضبوط ہوئے ہیں تو ڈیجیٹل لین دین ناکام ہونے پر عوام کی رقم کئی کئی دن تک کیوں روکی جا رہی ہے؟
بینک مضبوط ہوئے ہیں تو سِبل اسکور میں معمولی سی غلطی پر نوجوانوں کو قرض ادا نہ کرنے والا قرار دے کر ان کا مستقبل کیوں خراب کیا جا رہا ہے؟
بینک مضبوط ہوئے ہیں تو بزرگوں اور ناخواندہ لوگوں کو یو پی آئی اور آن لائن دھوکہ دہی سے بچانے کے لیے ہر بینک کی شاخ میں امدادی کاؤنٹر کیوں نہیں ہے؟
بینک مضبوط ہوئے ہیں تو بینک ملازمین کے جائز مطالبات کیوں نہیں مانے جا رہے ہیں؟ بینکوں میں نئی بھرتیاں کیوں نہیں ہو رہی ہیں اور موجودہ ملازمین پر اتنا دباؤ کیوں ہے کہ صارفین کی خدمات ہی درہم برہم ہو رہی ہیں؟
واضح رہے کہ اس سے قبل بدھ (14 اکتوبر) کو بھی اکھلیش یادو نے آئی ڈی بی آئی بینک میں 60.72 فیصد حصص فروخت کرنے کی مرکزی کابینہ کی منظوری پر سوال اٹھایا تھا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا تھا کہ ’’ بس اب حکومت کو فروخت کرنا باقی ہے... لگتا ہے بی جے پی حکومت نے اپنی دکان بند ہوتی دیکھ کر ’سیزن اینڈ سیل‘ لگا کر سب کچھ فروخت کر کے نکل جانے کا پروگرام بنا لیا ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
