گریٹ نکوبار منصوبہ ماحولیاتی تباہی کا باعث بنے گا، جے رام رمیش کا مودی حکومت پر حملہ
جے رام رمیش نے گریٹ نکوبار میں مجوزہ انفراسٹرکچر منصوبوں کو ماحول، حیاتیاتی تنوع اور قبائلی آبادی کے لیے شدید خطرہ قرار دیتے ہوئے مودی حکومت پر بے حسی اور کارپوریٹ مفادات کو ترجیح دینے کا الزام لگایا

کانگریس کے رکنِ پارلیمان اور پارٹی کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی حکومت کے فیصلوں نے ملک کو ایک کے بعد ایک ماحولیاتی بحران کی طرف دھکیلا ہے۔ ان کے مطابق حال ہی میں سپریم کورٹ کی جانب سے اراولی پہاڑیوں کی تعریف پر روک لگانا ایک ایسے فیصلے کو وقتی طور پر روکنے کے مترادف ہے جو ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا تھا، تاہم اصل اور کہیں بڑا خطرہ گریٹ نکوبار جزیرے میں تیار کیے جا رہے منصوبوں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
جے رام رمیش نے کہا کہ ایک سال سے زائد عرصے سے وہ ماحولیات کے وزیر کو خطوط لکھ رہے ہیں اور پارلیمان میں اس معاملے کو اٹھاتے رہے ہیں، مگر حکومت مسلسل نظرانداز کر رہی ہے۔ ان کے مطابق گریٹ نکوبار میں ہوائی اڈہ، بندرگاہ اور ایکو ٹورزم ریزورٹ تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں درختوں کی کٹائی ہوگی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس سے حیاتیاتی تنوع کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا اور مقامی قبائلی برادریوں کو اپنے گھروں سے بے دخل ہونا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ وہاں کی گرام سبھا پہلے ہی واضح طور پر ان منصوبوں کی مخالفت کر چکی ہے، اس کے باوجود حکومت زبردستی ان منصوبوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔ ان کے بقول یہ رویہ جمہوری اقدار اور مقامی خود اختیاری دونوں کے منافی ہے۔ جے رام رمیش نے اسے ترقی کے نام پر مسلط کی گئی ایک ایسی حکمتِ عملی قرار دیا جس کا فائدہ نہ عوام کو پہنچے گا اور نہ ہی مقامی آبادی کو۔
عوامی صحت کے تناظر میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے منصوبوں کو کیوں فروغ دے رہی ہے جو قدرتی آفات کو بڑھاوا دیتے اور آکسیجن کے قدرتی ذخائر کو ختم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ منصوبے موسمیاتی تبدیلی کی رفتار کو مزید تیز کریں گے اور آنے والی نسلوں کے لیے خطرات میں اضافہ کریں گے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آسان کاروبار کے نام پر سانس لینے اور باوقار زندگی گزارنے کو کیوں مشکل بنایا جا رہا ہے۔
کانگریس رہنما نے سونامی، سیلاب، زلزلوں اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے واقعات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ فطرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے نتائج ہمیشہ تباہ کن نکلتے ہیں۔ انہوں نے حکومت کو غیر حساس قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماحولیات کے معاملے میں وزیر اعظم کے بیانات اور عملی اقدامات کے درمیان واضح تضاد ہے۔
انہوں نے پنکج سیکھریا کی مرتب کردہ کتاب ’دی گریٹ نکوبار بیٹریل‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تحریریں سائنسی شواہد اور زمینی حقائق کی بنیاد پر حکومت کی پالیسیوں اور قبائلی حقوق سے سمجھوتے کو بے نقاب کرتی ہیں۔ ان کے مطابق گریٹ نکوبار نہ صرف نکوبار جزائر کا سب سے بڑا بلکہ جغرافیائی اور ماحولیاتی اعتبار سے انتہائی حساس علاقہ ہے، جہاں کسی بھی غیر محتاط فیصلے کے نتائج پورے خطے کے لیے دیرپا تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔