جامعہ کے ساتھ حکومت کا امتیازی سلوک، وزیر اعظم مودی کو کنور دانش علی کا خط

دانش علی نے کہا کہ جامعہ ایک مرکزی یونیورسٹی ہے جس کا خواب تحریک آزادی کے دوران دیکھا گیا تھا، جسے تحریک آزادی کے مجاہدین نے ایک حقیقی شکل دی تھی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی نے جمعرات کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے مرکزی یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ساتھ حکومت کے امتیازی سلوک پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جامعہ کی تاسیس کے 100 سال پورے ہونے پر ملنے والی 100 کروڑ روپے کی خصوصی گرانٹ جلد فراہم کرانے کی اپیل کی ہے۔

کنور دانش علی نے کہا کہ "ہمارے ملک میں 100 سال پورے کرنے والے ادارے کو 100 کروڑ کی خصوصی گرانٹ دینے کی روایت رہی ہے۔ اس رقم کا استعمال ادارے کے تعلیمی انفراسٹرکچر کو مزید مستحکم بنانے کے لئے کیا جاتا ہے، مگر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سو سال انتہائی کامیاب اور تاریخی سفر مکمل کرنے کے موقع پر کوئی صد سالہ مالی مدد نہیں ملی۔ یوم اساتذہ کے موقع پر جامعہ ٹیچرس ایسوسی ایشن نے آپ سے یونیورسٹی کے بنیادی ڈھانچے اور تعلیمی و تحقیقی سہولیات کو بہتر بنانے کے لئے ایک سو کروڑ روپے کی گرانٹ جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔ اس سلسلے میں، آج تک آپ کی طرف سے کوئی پہل نہیں کی گئی ہے"۔


انہوں نے کہا کہ اس سال جامعہ ملیہ اسلامیہ اپنی صد سالہ جشن منا رہا ہے، جامعہ ملیہ اسلامیہ ایک مرکزی یونیورسٹی ہے جس کا خواب تحریک آزادی کے دوران دیکھا گیا تھا اور اسے تحریک آزادی کے مجاہدین نے ایک حقیقی شکل دی تھی۔ جامعہ کی ہمہ جہت حصولیابیوں کی انتھک کوششوں کا پھل ملا ہے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ نے وزارت ترقی انسانی وسائل کی رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ جامعہ نے بین الاقوامی درجہ بندی میں اپنی پوزیشن میں نمایاں بہتری لائی ہے۔ یہ کارنامے طلبہ، اساتذہ، انتظامیہ اور عملہ کی سخت محنت سے ممکن ہوسکے ہیں۔

امروہہ سے لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ مکنور دانش علی نے لکھا ہے کہ اس طرح کی متاثر کن اور قابل ذکر حصولیابیوں کے باوجود یہ جان کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت اس ادارے کی مدد نہیں کررہی ہے جو نہ صرف تعلیمی میدان میں امتیاز رکھتا ہے بلکہ ملک کی تعمیر میں بھی بہت بڑا حصہ دار ہے۔


انہوں نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ایک اہم درخواست طویل عرصے سے حکومت کے سامنے زیر التوا ہے۔ یونیورسٹی نے مرکزی حکومت سے درخواست کی تھی کہ وہ میڈیکل کالج اور اسپتال قائم کرنے کی اجازت دے۔ میڈیکل کالج اور اسپتال کے قیام سے قومی صحت کے شعبے میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ اعلی معیار کے ڈاکٹروں کی کھیپ تیار کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے جامعہ میں میڈیکل کالج اور اسپتال کے قیام کی تجویز پر بھرپور تائید کی۔

انہوں نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ وزارت ترقی انسانی وسائل / یو جی سی سے معمول کا فنڈ موصول کرنے کے لیے طویل عرصے سے جدوجہد کر رہی ہے۔ اس کے بقایہ بل کا انبار لگا ہوا ہے، جو کروڑوں کی رقم پر مشتمل ہے۔ اساتذہ بہت مشکل حالات سے گزر بسر کر رہے ہیں کیونکہ حکومت ان کے بنیادی مسائل کو مستقل نظرانداز کر رہی ہے۔ فنڈ کی قلت نے جامعہ ملیہ کو خصوصی مضامین کی خالی اسامیوں پر تقرری کرنے سے روک دیا ہے۔ مالی بحران کی وجہ سے یونیورسٹی موجودہ سیشن میں تقریباً 200 اساتذہ، مہمان / کنٹریکٹ فیکلٹیوں کی بھرتی نہیں کرسکی۔ جامعہ کی انتظامیہ درس و تدریسی کا بوجھ ریسرچ اسکالروں پر ڈالنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ یہ سلسلہ زیادہ دن نہیں چل سکے گا کیونکہ اس سے یونیورسٹی میں اسکالروں کے مطالعہ و تحقیق کے معیار پر منفی اثر پڑے گا۔


بی ایس پی کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا بابائے قوم مہاتما گاندھی کے ساتھ طویل اور تاریخی رشتہ رہا ہے۔ جنوری 1925 میں جب جامعہ کو فنڈ کی کمی کی وجہ سے بند ہونے کا خطرہ درپیش ہوا تھا، تو مہاتما گاندھی جی نے حکیم اجمل خان سے کہا تھا کہ "اگر آپ کو پیسے کی دقت ہے تو میں بھیک مانگ لوں گا لیکن جامعہ بند نہیں ہونا چاہیے"۔ ہمارے بابائے قوم جامعہ ملیہ کو چلانے کے لئے بھیک مانگنے کو بھی تیار تھے لیکن بدقسمتی سے آج اس ادارے کو مالی طور پر دم توڑنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے وزير اعظم مودی سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کی اپیل کی تاکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کیا جائے اور اسے اس کا حق دیا جائے کیونکہ کسی قوم کا مستقبل اس کے نوجوانوں کو دی جانے والی تعلیم کے معیار پر منحصر ہوتا ہے جس کا دار ومدار ہمارے ذریعہ قائم اور چلائے جانے والے اداروں کے معیار پر ہے۔ کسی تعلیمی ادارے میں سرمایہ کاری کسی قوم کے مستقبل میں سرمایہ کاری کے مترادف ہوتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعظم یونیورسٹیوں، کالجوں اور تحقیقی مراکز کو بروقت فنڈ کی فراہمی یقینی بنا کر تعلیم یافتہ معاشرے کی تعمیر کے تئيں اپنی عہد بندی کا اظہار کریں گے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔