حکومت لاک ڈاؤن بڑھانے یا ہٹانے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر لے: کانگریس

سشمتا دیو کا کہنا تھا کہ ٹسٹنگ کا وافر انتظام نہیں ہوگا تو کورونا کے خلاف جنگ جیتنا کافی مشکل ہوگا۔ اس لئے یہ سہولت بڑھائے جانے کی ضرورت ہے تاکہ جو شہری جانچ کرانا چاہتے ہیں، انہیں یہ سہولت مل سکے۔

تصویر ویڈیو گریب
تصویر ویڈیو گریب
user

یو این آئی

نئی دہلی: کانگریس نے کہا کہ کورونا وائرس کے خلاف جاری جنگ میں پورا ملک وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ہے لیکن 21 دن کے لاک ڈاؤن کو بڑھانے، پوری طرح یا مرحلے وار طریقے سے ہٹانے کا جو بھی فیصلہ حکومت کرے، وہ سوچ سمجھ کر اور پوری تیاری کے ساتھ کرے۔

کانگریس ترجمان اور خاتون کانگریس کی صدر سشمتا دیو نے اتوار کے روز پارٹی صدر دفتر میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ لاک ڈاؤن کو ہٹانے یا جاری رکھنے کے سلسلے میں حکومت جو بھی فیصلہ کرے وہ پوری تیاری کے ساتھ ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آسمان کو روشنی دکھانا، کورونا کا علاج نہیں ہے لیکن ملک کے وزیراعظم کی اپیل ہے اس لئے سب اس پر عمل کریں گے۔

کورونا کے سبب مہلوکین کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مہلوکین کو معاوضہ ملنا چاہیے۔ ترجمان نے کہا کہ کورونا کا علاج کر رہے ڈاکڑوں کو 62 لاکھ پرسنل پروٹیکشن آلات پی پی ای کی ضرورت ہے جبکہ ان کے پاس یہ مصنوعات کافی کم ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ پی پی ای کی تیاری میں پانچ ہفتوں کی تاخیر کیوں کی گئی جبکہ اس سلسلے میں 28 فروری کو ہی الرٹ جاری کردیا گیا تھا۔ اسی طرح سے وینٹی لیٹر کی کمی ہے اس کمی کو پورا کرنے اور انہیں چلانے کے لئے ٹیکنیشین کی کمی دور کرنے کے لئے کیا قدم اٹھائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا بحران کورونا کی جانچ کا ہے، دیگر ممالک کے مقابلے ہمارے یہاں کورونا جانچ کی سہولت کافی کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹسٹنگ کا وافر انتظام نہیں ہوگا تو کورونا کے خلاف جنگ جیتنا کافی مشکل ہوگا۔ اس لئے یہ سہولت بڑھائے جانے کی ضرورت ہے تاکہ جو شہری جانچ کرانا چاہتے ہیں، انہیں یہ سہولت مل سکے۔