دہلی میں حکومت کا مطلب لیفٹیننٹ گورنر! راجدھانی میں متنازعہ قانون کا اطلاق

دہلی میں کورونا کی دوسری لہر کے درمیان مرکز نے اس قانون کا اطلاق کر دیا ہے، جو دہلی میں عوام کے ذریعے منتخب شدہ حکومت کے مقابلہ میں ایل جی کو زیادہ اختیار فراہم کرتا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: دہلی میں کورونا کی دوسری لہر کے درمیان مرکز نے اس قانون کا اطلاق کر دیا ہے، جو دہلی میں عوام کے ذریعے منتخب شدہ حکومت کے مقابلہ میں ایل جی کو زیادہ اختیار فراہم کرتا ہے۔ نئے قانون کے مطابق دہلی حکومت کا مطلب لیفٹیننٹ گورنر ہوگا۔ دہلی کی حکومت کو اب کوئی بھی انتظامی فیصلہ لینے سے قبل ایل جی سے اجازت طلب کرنا ہوگی۔ این سی ٹی حکومت (ترمیمی) قانون 2021 نامی اس قانون میں عوام کی منتخب شدہ حکومت پر ایل جی کو فوقیت دی گئی ہے۔ وزارت داخلہ کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق قانون کی دفعات کو 27 اپریل سے نافذ کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ مہینے دونوں ایوانوں میں سخت مخالفت کے درمیان اس متنازعہ قانون کو منظوری دی گئی تھی۔ لوک سبھا نے 22 مارچ کو اور راجیہ سبھا نے 24 مارچ کو اس کو منظوری دی تھی۔ جب اس قانون کو منظور کیا گیا تب دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے اسے جمہوریہ ہند کے لئے تکلیف دہ دن قرار دیا تھا۔


خیال رہے کہ اروند کیجریوال کی قیادت میں عام آدمی پارٹی نے 2020 کے اسمبلی انتخابات میں 70 میں سے 62 سیٹوں پر قبضہ کیا تھا۔ بی جے پی کے کھاتہ میں 8 سیٹیں آئی تھیں جبکہ کانگریس کا کھاتہ بھی نہیں کھل پایا تھا۔ اروند کیجریوال یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ مرکزی حکومت، ایل جی کے توسط سے دہلی پر منتخب حکومت کے برعکس حکمرانی کرنے اور دہلی حکومت کی اسکیموں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اختیارات کی اس رسہ کشی پر سپریم کورٹ نے بھی جولائی 2018 میں ایک اہم فیصلہ سنایا تھا۔ جہاں آئینی بنچ نے یہ بندوبست کیا تھا کہ ایل جی کو فیصلہ لینے کا کوئی آزادانہ اختیار نہیں ہے اور وہ منتخب شدہ حکومت کی سفارشات پر کام کرنے کا پابند ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔