تمل ناڈو کے کرور ضلع میں مال گاڑی نے کالج کی بس کو ماری ٹکر، 25 طلباء زخمی
حادثے کے بعد ساؤتھ ریلوے نے ایک بیان میں کہا کہ یہ واقعہ ایک پرائیویٹ ریلوے لائن پر پیش آیا، جو اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ لائن چیٹیناڈ سیمنٹ کی ملکیت ہے۔

تمل ناڈو کے کرور ضلع میں ایک المناک حادثہ پیش آیا ہے جس میں یہاں کے پرائیویٹ انجینئرنگ کالج کی بس اور مال گاڑی کے درمیان زوردار ٹکر ہوگئی۔ حادثے میں بس میں سوار25 طلباء زخمی ہوگئے ہیں جن کا اسپتال میں علاج جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہفتے کی شام یہ کالج کی بس ویرارکیم اور پلایم کے درمیان ایک بغیر پائلٹ ریلوے کراسنگ سے گزر رہی تھی جب حادثہ پیش آیا۔ حادثے کے فوراً بعد موقع پر پہنچے آس پاس کے لوگوں نے تمام زخمی طلباء کو ضلعی سرکاری اسپتال پہنچایا۔
خبر کے مطابق ریلوے کراسنگ پر کوئی گیٹ نہیں تھا اور نہ ہی وہاں کوئی گارڈ تعینات تھا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال گزشتہ 25 سالوں سے برقرار ہے۔ حادثے میں ایک طالب علم کے سر میں چوٹ آئی ہے جسے کوئمبٹور کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
حادثے کے بعد ساؤتھ ریلوے نے ایک بیان میں کہا کہ یہ واقعہ ایک پرائیویٹ ریلوے لائن پر پیش آیا، جو اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ لائن چیٹیناڈ سیمنٹ کی ملکیت ہے اور ویراراکیم اور پلایم کے درمیان چلتی ہے جسے وہ کلینکر کی نقل و حمل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ساؤتھ ریلوے کی ملکیت نہیں ہے۔ اس لائن پر کچھ بغیر پائلٹ ایل سی (مقامی ریلوے لائنیں) ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کرور پولیس کی جانب سے مزید تفتیش جاری ہے۔
اسی دوران کرور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ جوش تھنگیا نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور واقعہ کے بارے میں دریافت کیا۔ کرور کے ایم ایل اے وی سینتھل بالاجی، ایم پی ایس جیوتھیمانی اور دیگر نے اسپتال میں متاثرہ لوگوں کی عیادت کی۔ جیوتھیمانی نے کہا کہ یہ لائن چیٹیناڈ سیمنٹ اپنی مال برداری کے لیے الگ سے چلاتی ہے۔
دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے) کے رہنما سینتھل بالاجی نے زخمی طلباء کی عیادت کے لیے اسپتال کا دورہ کیا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایک مال بردار ٹرین نے بس کو پیچھے سے ٹکر ماری جب وہ ریلوے ٹریک کراس کر رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 25 طلباء زخمی ہوئے اور انہیں ضلعی سرکاری اسپتال لے جایا گیا۔ ان میں سے دو طالب علموں کو بعد میں ایک نجی اسپتال لے جایا گیا، جب کہ 23 کا سرکاری اسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے۔ ایم ایل اے نے مزید بتایا کہ ان 23 طلباء میں سے 3 کی حالت اب بہتر ہے اور انہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد اسپتال سے چھٹی دے دی گئی ہے۔ تاہم باقی زخمی بچے اسپتال میں داخل ہیں۔ ایک طالب علم کے سر پر چوٹ آئی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔