خوشخبری! آئی سی آر اے نے جی ڈی پی کی پیشن گوئی میں اضافہ کیا

ماہر معیشت آدتیہ نائر کا کہنا ہے کہ مالی سال 22-2021 کے لئے فصل پیداوار کے پیشگی تخمینوں نے موٹے اناج اور تلہن کو چھوڑ کر خریف کی پیداوار میں مضبوط اضافہ کے اشارے دیئے ہیں۔

جی ڈی پی، تصویر آئی اے این ایس
جی ڈی پی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: انڈین کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی (آئی سی آر اے) نے کورونا وبا کی روک تھام کے لئے ٹیکہ کاری کی تیز رفتار، بمپر خریف پیداوار اور سرکاری اخراجات میں اضافہ کی امید کی بدولت رواں مالی سال میں ملک کی اصل مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح کا اندازہ 8.5 فیصد سے بڑھا کر نو فیصد کردیا ہے۔

آئی سی آر اے کے چیف اکنامسٹ آدتیہ نائر نے پیر کو کہا کہ کووڈ ٹیکہ کاری کی تیز رفتار کا یقین دلانے سے گہری رابطہ خدمات کے شعبے کی مانگ میں اضافہ ہوگا۔ اس کی بدولت کورونا وبا کی وجہ سے معیشت کے سب سے زیادہ متاثر شعبہ میں بہتری آئے گی۔ ساتھ ہی خریف کی پیداوار بمپر رہنے کا اندازہ ہے۔ اس کے علاوہ پہلے کیش منیجمنٹ گائیڈ لائنز کو واپس لینے کے بعد مرکزی حکومت کے اخراجات میں متوقع تیزی آئے گی۔ اس کی بنیاد پر ہم نے مالی سال 2021-22 میں ملک کی اصل جی ڈی پی کی شرح کے اندازہ کو 8.5 فیصد سے بڑھاکر نو فیصد کر دیا ہے۔


آدتیہ نائر نے کہا کہ اس سال یکم سے 26 ستمبر کے دوران اوسطاً 79 لاکھ لوگوں کو یومیہ کورونا ٹیکہ لگایا گیا ہے۔ اگر ٹیکہ کاری یہ رفتار برقرار رہی تو اندازہ ہے کہ 2021 کے آخر تک ملک کے تقریباً تین چوتھائی بالغان کو دوسری ڈوز دے ڈی جائے گی۔ اس سال رواں مالی سال کی چوتھی سہ ماہی میں گہری رابطہ خدمات کی مانگ بڑھے گی۔ حالانکہ کچھ خدمات جیسے کاروباری سفر طویل وقفہ کے ساتھ اپنی پہلے کی کووڈ سطح پر واپس آسکتی ہے۔ تاخیر سے بوائی ہونے سے خریف رقبہ کو تقریباً گزشتہ سال کے ریکارڈ علاقہ کے برابر لانے میں مدد ملی ہے۔

چیف اکنامسٹ نے کہا کہ اس کے مطابق مالی سال 2021-22 کے لئے فصل پیداوار کے پیشگی تخمینوں نے موٹے اناج اور تلہن کو چھوڑ کر خریف کی پیداوار میں مضبوط اضافہ کے اشارے دیئے ہیں۔ حالانکہ مانسون کے کمزور رہنے اور سیلاب کی صورتحال تشویش کا موضوع رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔