گوا: ساحل سمندر پر دو نابالغوں کی عصمت دری، وزیر اعلیٰ ساونت کا قابل اعتراض تبصرہ

گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت نے اسمبلی میں ایک بیان دیا جس میں مبینہ طور پر انھوں نے کہا کہ والدین کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ان کے بچے رات میں اتنی دیر تک سمندر کے ساحل پر کیوں تھے۔

پرمود ساونت، تصویر آئی اے این ایس
پرمود ساونت، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

بی جے پی حکمراں ریاستوں میں جرائم اور عصمت دری کے واقعات لگاتار بڑھتے جا رہے ہیں اور اس کا نظارہ گوا میں گزشتہ اتوار کے روز بھی دیکھنے کو ملا جب ساحل سمندر پر دو نابالغ لڑکیوں کے ساتھ مبینہ طور پر اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ اس تعلق سے بدھ کے روز ریاست کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت کا ایک قابل اعتراض بیان سامنے آیا ہے جس پر اپوزیشن پارٹی لیڈران نے ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔

دراصل وزیر اعلیٰ پرمود ساونت نے ریاستی اسمبلی میں بدھ کے روز ایک بیان دیا جس میں مبینہ طور پر انھوں نے کہا کہ والدین کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ان کے بچے رات میں اتنی دیر تک سمندر کے ساحل پر کیوں تھے۔ ساونت نے ایوان میں توجہ دلاؤ نوٹس پر ایک بحث کے دوران کہا کہ ’’جب 14 سال کے بچے پوری رات ساحل سمندر پر رہتے ہیں تو والدین کو سوچنے کی ضرورت ہے۔ ہم صرف اس لیے ہی حکومت اور پولیس پر ذمہ داری نہیں ڈال سکتے کہ بچے نہیں سنتے۔‘‘


محکمہ داخلہ کا چارج سنبھالنے والے پرمود ساونت نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ اپنے بچوں کی سیکورٹی یقینی بنانا والدین کی ذمہ داری ہے اور انھیں اپنے بچوں، خصوصاً نابالغوں کو رات رات بھر باہر نہیں رہنے دینا چاہیے۔ اب اس طرح کے بیان پر کانگریس نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ گوا یونٹ کانگریس کے ترجمان الٹون ڈی کوسٹا نے جمعرات کے روز کہا کہ ساحلی ریاستوں میں نظام قانون کی حالت بگڑ گئی ہے جو فکر انگیز ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’رات میں باہر گھومتے ہوئے ہمیں کیوں ڈرنا چاہیے؟ جرائم پیشوں کو جیل میں ہونا چاہیے اور قانون پر عمل کرنے والے شہریوں کو باہر آزادی سے گھومنا چاہیے۔‘‘

گوا فارورڈ پارٹی کے رکن اسمبلی وجے سردیسائی نے بھی پرمود ساونت کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ شرمناک ہے کہ وزیر اعلیٰ اس طرح کے بیان دے رہے ہیں۔ شہریوں کی سیکورٹی پولیس اور ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر وہ ہمیں سیکورٹی نہیں دے سکتے تو وزیر اعلیٰ کو عہدہ پر بنے رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ آزاد رکن اسمبلی روہن کھوٹے نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’یہ حیران کرنے والی بات ہے کہ گوا کے وزیر اعلیٰ یہ دعویٰ کرتے ہوئے رات میں بچوں کو باہر جانے دینے کے لیے والدین کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں کہ رات کو باہر جانا محفوظ نہیں ہے۔‘‘ انھوں نے مزید لکھا کہ ’’اگر ریاستی حکومت ہماری حفاظت کا بھروسہ نہیں دے سکتی تو کون دے سکتا ہے؟ گوا کی خواتین کے لیے محفوظ ہونے کی تاریخ رہی ہے، لیکن بی جے پی کی حکومت میں یہ تمغہ کھو رہا ہے۔‘‘


واضح رہے کہ گزشتہ اتوار کو گوا کی راجدھانی سے تقریباً 30 کلو میٹر دور بینالم ساحل پر چار لوگوں نے خود کو پولیس اہلکار بتا کر دو نابالغ لڑکیوں کی مبینہ طور پر عصمت دری کی۔ انھوں نے لڑکیوں کی پٹائی بھی کی۔ چاروں ملزمین میں سے ایک سرکاری ملازم ہے۔ گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت نے ایوان میں بتایا کہ چاروں ملزمین کو گرفتار کر لیا گیا ہے، اور ساتھ ہی کہا کہ ’’ہم سیدھے طور پر پولیس کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، لیکن میں کہنا چاہتا ہوں کہ ایک پارٹی کے لیے ساحل سمندر پر گئے 10 نوجوانوں میں 4 پوری رات وہاں رکتے ہیں۔ باقی کے 6 گھر چلے جاتے ہیں۔ دو لڑکے اور دو لڑکیاں پوری رات وہاں رہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔