گوا کے کانگریس رکن پارلیمنٹ کو ’ایس آئی آر‘ کا نوٹس، الیکشن کمیشن نے اپنی پہچان ثابت کرنے کے لیے بلایا
گوا سے کانگریس رکن پارلیمنٹ ویریاتو فرنانڈیز کا کہنا ہے کہ ’’اگر ایک رکن پارلیمنٹ کو اس طرح کی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تو ایسے میں عام آدمی کی حالت کے بارے میں سوچ کر حیرانی ہوتی ہے۔‘‘

جنوبی گوا سے کانگریس رکن پارلیمنٹ ویریاتو فرنانڈیز نے الزام عائد کیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے انہیں ایک نوٹس بھیج کر ووٹر لسٹ میں اپنا نام برقرار رکھنے کے لیے اپنی شناخت ثابت کرنے والی دستاویزات کے ساتھ اپنے سامنے پیش ہونے کے لیے کہا ہے۔ ہندوستانی بحریہ کے سابق افسر فرنانڈیز نے کہا کہ ’’ایک رکن پارلیمنٹ کو اس طرح کی تحقیق کے دائرے میں لانا اپوزیشن کے ذریعہ اٹھائے گئے خدشات کی تصدیق کرتا ہے کہ الیکشن کمیشن کی ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کا مقصد جائز ووٹرس کے ناموں کو ووٹر لسٹ سے ہٹانا اور انہیں ووٹنگ کے عمل میں حصہ لینے سے روکنا ہے۔‘‘
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’فیس بک‘ پر لکھا کہ ’’مجھے الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک نوٹس موصول ہوا ہے، جس میں مجھ سے ووٹر لسٹ میں اپنا نام برقرار رکھنے کے لیے پہچان ثابت کرنے والی دستاویزات کے ساتھ حاضر ہونے کو کہا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے 2024 کے لوک سبھا انتخاب میں مجھ سمیت تمام امیدواروں کو انتخاب لڑنے کی اجازت دینے سے قبل بڑے پیمانے پر جانچ کی تھی، اس کے باوجود یہ نوٹس آیا ہے۔‘‘
کانگریس لیڈر کا کہنا ہے کہ ’’ویسے میں 1989 میں ووٹ دینے کے لیے اہل ہونے کے بعد سے ووٹ کر رہا ہوں۔ اس کا سارا کریڈٹ آنجہانی وزیر اعظم راجیو گاندھی جی کو جاتا ہے، جنہوں نے 18 سال کے نوجوانوں کو ووٹ کا حق دینے کی پہل کی۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہندوستانی بحریہ میں اپنی 26 سال کی خدمت کے دوران وہ پارلیمانی، اسمبلی یا ضلعی پنچایتی انتخاب میں اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے کئی بار فوجی تعیناتی کے دور دراز مقامات سے گوا کا سفر کر چکے ہیں۔
گوا سے کانگریس رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ ’’اگر ایک رکن پارلیمنٹ کو اس طرح کی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تو ایسے میں عام آدمی کی حالت کے بارے میں سوچ کر حیرانی ہوتی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور غیر سرکاری تنظیموں/شہریوں کے ذریعہ اٹھائے گئے ان خدشات کی تصدیق ہوتی ہے کہ الیکشن کمیشن جائز ووٹرس کے نام ہٹانے اور انہیں ووٹنگ کے جمہوری عمل میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے ایس آئی آر کرا رہا ہے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ ایک روز قبل بھی اسی طرح ایک دیگر معاملہ میں الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال میں ایس آئی آر عمل کے تحت نوبل انعام یافتہ اور ممتاز ماہر اقتصادیات امرتیہ سین کو نوٹس بھیج کر تنازعہ کھڑا کر چکا ہے۔ ٹی ایم سی سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے اس قدم پر سوال اٹھایا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔