وزیر اعظم اور وزیر اعلی جھگڑے کے بجائے کورونا متاثرین کو راحت دیں: کانگریس

اجے ماکن نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے فروری میں ہی متنبہ کر دیا تھا کہ ملک میں آکسیجن کی شدید قلت ہے اور آنے والے وقت میں ملک کو اس کی وجہ سے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اجے ماکن، تصویر یو این آئی
اجے ماکن، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کورونا کی بگڑتی صورتحال پر ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے کے بجائے وبا سے نمٹنے کے لئے مل کر کوششیں کریں، تاکہ متاثرہ افراد کو راحت مل سکے۔

کانگریس کے ترجمان اجے ماکن نے ہفتے کے روز یہاں آئی این سی ٹی وی چینل لانچ کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے فروری میں ہی متنبہ کر دیا تھا کہ ملک میں آکسیجن کی شدید قلت ہے اور آنے والے وقت میں ملک کو اس کی وجہ سے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے اپنی 190 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کم از کم 40 مرتبہ آکسیجن کی کمی کا تذکرہ کیا اور کہا کہ کورونا کی دوسری لہر کے دوران، ملک کو اس کی وجہ سے ایک سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن حکومت نے کمیٹی نے رپورٹ کی جانب توجہ نہیں دی۔

ترجمان نے کہا کہ دہلی میں ایک بھی آکسیجن پلانٹ نہیں ہے، جبکہ پچھلے دو سالوں کے دوران، دہلی حکومت نے تشہیر کے لئے اشتہارات پر 822 کروڑ خرچ کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس رقم کو کورونا کے خلاف جاری جدوجہد میں استعمال کیا جاتا اور الگ الگ کورونا اسپتال بنائے جاتے یا آکسیجن پلانٹس لگائے جاتے تو دہلی کے عوام کو آج کورونا کی وجہ سے پیدا ہونے والے بڑے بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔