عام ہڑتال: مغربی بنگال میں کئی مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ، ٹرین خدمات متاثر

ہڑتال کے دوران معمولات زندگی کو بحال کرنے کے لئے پرعزم پولیس نے جگہ جگہ مظاہرین پر لاٹھی چارج کی اور کئی مقامات پر بائیں محاذ اور کانگریس کارکنان نے سڑک جام کر دی۔

مغربی بنگال میں ہڑتال / تصویر آئی اے این ایس
مغربی بنگال میں ہڑتال / تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

کولکاتا: مرکزی حکومت کی مزدور مخالف پالیسی اور دیگر مطالبات کو لے کر ٹریڈ یونینوں کے ملک گیرہڑتال جسے بایاں محاذ اور کانگریس کی حمایت حاصل ہے کا کلکتہ شہر اور دیگر علاقوں میں جزوی اثر نظر آرہا ہے۔ ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لئے بائیں بازوں اور کانگریس کے کارکنان جمعرات کی صبح سے ہی سڑکوں پر نکل کر احتجاج و مظاہرہ کر رہے ہیں۔

کلکتہ سمیت دیگر اضلاع میں ہڑتال کرنے والوں کے ساتھ پولیس جھڑپوں کی تصاویر سامنے آرہی ہیں۔ ہڑتال کے دوران معمولات زندگی کو بحال کرنے کے لئے پرعزم پولیس نے جگہ جگہ مظاہرین پر لاٹھی چارج کیے ہیں۔ کئی مقامات پر بائیں محاذ اور کانگریس کارکنان نے سڑک جام اور ناکہ بندی کی۔ چاندنی میٹرو اسٹیشن کے قریب بائیں بازو کے کارکن اور حمایتی جمع ہوگئے۔

مظاہرین نے طاقت کے ذریعہ میٹرو اسٹیشن بند کرنے کی کوشش کی۔ دوسری جانب، ہڑتال کرنے والوں نے بی ٹی روڈ پر سڑک بلاک کرنے کی بھی کوشش کی۔ مگر تھوڑی دیر بعد سڑک کھولوانے کے لئے پولیس نے لاٹھی چارج کرنا شروع کر دیا۔ ہڑتال کے حامی کارکنان بدھان سرانی میں ٹرام لائن پر بیٹھ کر سڑک روکتے ہوئے دیکھے گئے۔ ہڑتال کرنے والوں پر لیٹن اسٹریٹ پر دکانوں میں توڑ پھوڑ کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

شہر کے جادو پور علاقے میں بایاں محاذ زیادہ سرگرم تھی۔ جادو پور اسٹیشن میں داخل ہوکر ٹرین کو روکنے کی کوشش کی۔ جادو پور یونیورسٹی کے سامنے بڑی تعداد میں بائیں بازوں کے حامی جمع ہوتے دکھائی دیئے۔ ریلوے ناکہ بندی کی وجہ سے صبح سے ہی سیالدہ ساؤتھ برانچ میں ٹرینوں کی نقل و حرکت درہم برہم ہوگئی۔ اسی طرح سیالدہ نارتھ برانچ کے بن گاؤں روٹ پر متعدد اسٹیشنوں پر ناکہ بندی کی وجہ سے ٹرین کی آمد و رفت میں خلل پڑ گیا۔

نیو ٹاؤن میں ہڑتال حامیوں نے سڑک پر ٹائر جلاکر احتجاج کیا۔ شہر کے راجہ بازار چوک پر بھی کانگریس اور بائیں محاذ کے کارکنان نے احتجاج و مظاہرہ کیا۔ دوسرے دنوں کے مقابلے ہوڑہ اور سیالدہ ریلوے اسٹیشن پر لوگوں کی بھیڑ کم تھی۔

کمرہٹی اسمبلی کے ممبر اسمبلی مانس مکھرجی کی قیادت میں کانگریس اور بائیں محاذ کے حامیوں نے جلوس نکالا۔ کمرہٹی اور آس پاس کے علاقے میں ٹریفک نظام درہم برہم ہوگیا۔ بارک پور گھوشپارہ روڈ بلاک کردیا۔ سی پی ایم کارکنوں نے کار کے ٹائر جلا کر روڈ بلاک کردیا۔ ٹیٹاگڑھ پولیس نے آکر ناکہ بندیوں کو ہٹایا۔ اس واقعے کے باعث گھوشپارہ روڈ پر ٹریفک کا زبردست جام ہوگیا۔

ادھر درگاپور میں بھی پولیس نے ہڑتال حامیوں پر لاٹھی چارج کیا۔ بائیں بازو کے کارکنوں نے ہڑتال کی حمایت میں درگاپور میں ڈی وی سی جنکشن کے قریب نیشنل ہائی وے نمبر 2 بلاک کردیا۔ جب انہیں ہٹایا گیا تو پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی۔ پولیس نے کئی افراد کو گرفتار کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


    next