مرکزی حکومت کے خلاف عوام میں غصہ، محنت کشوں کی ہڑتال، کسانوں کا احتجاج

ملک بھر میں مزدور اور کسان تنظیموں کے کارکنان جمعرات کے روز مرکزی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور ملک کے مختلف مقامات پر دھرنا احتجاج شروع کیا

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: ملک بھر میں مزدور اور کسان تنظیموں کے کارکنان جمعرات کے روز مرکزی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور ملک کے مختلف مقامات پر دھرنا احتجاج شروع کیا۔ بائیں بازو کی حمایت یافتہ 10 سنٹرل لیبر یونینوں کی کال پر منعقدہ اس ہڑتال میں بھارتیہ جنتا پارٹی حامی بھارتیہ مزدور سنگھ شامل نہیں ہے۔ مزدور سنگھ نے اس احتجاج و مظاہرہ کو سیاست سے متاثر قرار دیا ہے۔

بینک ورکرز بھی محنت کشوں کی ہڑتال میں شامل ہیں ، جس سے ملک بھر میں بینکنگ خدمات متاثر ہیں ۔ مرکزی ٹریڈ یونینوں کی اس ایک روزہ ملک گیر ہڑتال میں مختلف سرکاری ، نجی اور کچھ غیر ملکی بینکوں کے چار لاکھ ملازمین شرکت کررہے ہیں۔

تصویر بشکریہ ٹوئٹر
تصویر بشکریہ ٹوئٹر

مزدور تنظیموں کا الزام ہے کہ مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیرقیادت حکومت عوام دشمن پالیسیاں نافذ کررہی ہے اور عام لوگوں کے خلاف فیصلے لے رہی ہے۔ ٹریڈ یونینز پبلک سیکٹر کمپنیوں میں سرمایہ کشی اور نجکاری کی مخالفت کر رہی ہیں۔ مزدور تنظیموں نے کم سے کم پنشن ، کم سے کم اجرت ، تمام کارکنوں کو معاشرتی دائرے میں لانے اور مساوی تنخواہ کے نظام کا مطالبہ کیا ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

مزدور تنظیمیں حالیہ مزدور اصلاحات کی بھی مخالفت کر رہی ہیں۔ محنت کشوں کا الزام ہے کہ وہ مزدوروں کے مفادات کو نقصان پہنچائیں گے۔ دوسری جانب کسان حال ہی میں منظور کردہ تینوں زرعی قوانین کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس کے لئے ’دہلی چلو‘کا نعرہ دیتے ہوئے ملک بھر کے کسانوں نے دارالحکومت کی طرف کوچ کیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کو روکا جارہا ہے۔

ملک بھر سے کسان ٹریکٹر اور ٹرک وغیرہ میں بھر کر دہلی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کسانوں کو روکنے کے لئےریاستوں میں جگہ جگہ بلاکس لگائے گئے ہیں۔ مدھیہ پردیش ، اترپردیش ، پنجاب ، ہریانہ وغیرہ کے کسانوں کو روکے جانے کی اطلاعات ہیں۔ محنت کشوں کی ہڑتال کی وجہ سے ملک بھر میں صنعتی اداروں کے کام کاج متاثر ہوئے ہیں۔ بینکنگ خدمات اور پیداوار کا عمل رک چکا ہے۔ کارکنان نے ملک بھر میں مخلتف مقامات پر احتجاج و مظاہرے اور ریلیاں کررہے ہیں۔

احتجاج میں شامل ہونے والی مرکزی سینٹرل لیبر تنظیموں میں انڈین نیشنل ٹریڈ یونین کانگریس (آئی این ٹی سی یو) ،آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس (اے آئی ٹی یو سی ) ، ہند مزدور سبھا (ایچ ایم ایس) ، سینٹر فار انڈین ٹریڈ یونینز(سی آئی ٹی یو ) ، آل انڈیا یونائٹیڈ ٹریڈ یونین سنٹر (اے آئی یو ٹی یوسی )،ٹریڈ یونین کوآرڈی نیشن سینٹر(ٹی یو سی سی)،سیلف ایمپلائڈ وومینس ایسو سی ا یشن(ایس ای ڈبلیواے) شامل ہیں۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

اس کے علاوہ آل انڈیا سینٹرل کونسل آف ٹریڈ یونینز(اے آئی سی سی ٹی یو) ، ٹریڈ یونین کوآرڈینیشن سینٹر (ٹی یو سی سی) ، سیلف ایمپلائڈ ویمن ایسوسی ایشن (سروس) ، آل انڈیا سنٹرل کونسل آف ٹریڈ یونین (اے سی سی ٹی یو) ، لیبر پروگریسو فیڈریشن (ایل پی ایف) اور یونائیٹڈ ٹریڈ یونین کانگریس (یو ٹی یو سی) بھی احتجاج میں شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، آل انڈیا بینک ایمپلائز یونین نے بھی ہڑتال میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔ کچھ آزاد فیڈریشنز اور تنظیمیں بھی اس ہڑتال میں شامل ہیں۔ اس ہڑتال میں 25 کروڑ سے زائد ملازمین حصہ لے رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 26 Nov 2020, 1:46 PM
next