کشمیر میں تازہ برف باری، فضائی و زمینی ٹرانسپورٹ متاثر

ائر پورٹ ذرائع نے بتایا کہ سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہفتے کی صبح سے پروازیں موخر کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ رن وے پر برف جمع ہونے کی وجہ سے پروازوں کا اڑنا فی الوقت ناممکن بن گیا ہے۔

کشمیر میں ریکارڈ ساز سردیاں / تصویر یو این آئی
کشمیر میں ریکارڈ ساز سردیاں / تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: وادی کشمیر میں محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے عین مطابق ہفتے کی علی الصبح سے ہی تازہ برف باری شروع ہوئی جس کے باعث فضائی و زمینی ٹرانسپورٹ متاثر ہو گیا۔ دریں اثنا وادی میں تازہ برف باری کے بیچ شبانہ درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے ٹھٹھرتی سردی سے لوگوں کو قدرے راحت نصیب ہوئی۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق وادی کشمیر میں ہفتے کی شام تک برف باری ہوسکتی ہے، تاہم اتوار سے موسم میں بہتری واقع ہونے کی توقع ہے۔ وادی کشمیر میں ہفتے کی علی الصبح سے تازہ برف باری کا سلسلہ شروع ہوا جس کے باعث فضائی و زمینی ٹرانسپورٹ متاثر ہوا۔

ائر پورٹ ذرائع نے بتایا کہ سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہفتے کی صبح سے پروازیں موخر کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ رن وے پر برف جمع ہونے کی وجہ سے پروازوں کا اڑنا فی الوقت ناممکن بن گیا ہے۔ وادی کی سڑکوں پر تازہ برف باری سے پھسلن پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل متاثر ہوگئی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق دیہی علاقوں میں ٹرانسپورٹ مکمل طور پر معطل ہے۔ میدانی علاقوں میں اگر چہ گاڑیوں کی جزوی نقل وحمل جاری رہی ہے لیکن گاڑیاں کچھوے کی رفتار سے چل رہی تھیں اور کئی گاڑیوں کے ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ وادی میں تازہ برف باری کے بیچ شبانہ درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جس سے لوگوں کی ٹھٹھرتی سردی سے قدرے راحت نصیب ہوئی۔


محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان کے مطابق گرمائی دارلحکومت سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 2.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گزشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 6.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ بتادیں کہ سری نگر میں 14 جنوری کو رواں سیزن کی سرد ترین رات درج ہوئی تھی جب کم سے کم درجہ حرارت منفی 8.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا اور سردیوں کا پچیس سالہ پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا تھا۔ وادی کے مشہور زمانہ سیاحتی مقام گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 4.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ وادی کے دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 1.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گزشتہ رات کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 7.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔

سرحدی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 0.4 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ قاضی گنڈ میں منفی 4.0 ڈگری سینٹی اور ککر ناگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 4.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر میں سردیوں کے بادشاہ چالیس روزہ چلہ کلان کی حکومت کا آخری مرحلہ چل رہا۔ اہلیان وادی کا ماننا ہے کہ چلہ کلان نے رواں سیزن کے دوران برسوں بعد اپنی بھر پور طاقت کا مظاہرہ کرکے لوگوں کو گونا گوں مشکلات سے دوچار کر دیا۔ چلہ کلان کا دور حکومت 31 جنوری کو اختتام پذیر ہوگا اور اس کے بعد 20 روزہ چلہ خورد تخت نشین ہوگا تاہم چلہ خورد میں سردیوں کے زور میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔