طالبان امن معاہدے کا بائیڈن انتظامیہ جائزہ لے گی

سُلیوان اور محب کے درمیان بات چیت کے بعد وائٹ ہاؤس نے کہا کہ اگلے ماہ فروری میں امریکہ-طالبان معاہدے کا جائزہ لیا جائے گا اور اس حقیقت کا تجزیہ کیا جائے گا کہ کیا طالبان اپنے وعدوں پر کھرا اترا ہے۔

جو بائیڈن / Getty Images
جو بائیڈن / Getty Images
user

یو این آئی

واشنگٹن: امریکہ کے قومی سلامتی کے صلاح کار جیک سُلیوان نے افغانستان میں اپنے ہم منصب حمد اللہ محب سے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ طالبان کے ساتھ امن معاہدے کا جائزہ لے گی۔ امریکی صدر دفتر ہیڈ کوارٹر وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں یہ اطلاع دی گئی۔

سُلیوان اور محب کے درمیان بات چیت کے بعد وائٹ ہاؤس نے کہا، ’سُلیوان نے واضح کر دیا ہے کہ اگلے ماہ فروری میں امریکہ-طالبان معاہدے کا جائزہ لیا جائے گا اور اس حقیقت کا تجزیہ کیا جائے گا کہ کیا طالبان اپنے وعدوں پر کھرا اترا ہے‘۔


بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ان حقائق کا جائزہ لے گا کہ کیا طالبان باغیوں کو دہشت گرد گروہ سے علاحدہ کرنے اور افغان حکومت کے ساتھ بات چیت میں شامل ہونے سے متعلق معاہدے کی شرائط کی پاسداری کر رہا ہے۔ امریکہ نے

ایمبیسی کے ایک سابق اہلکار پر سازش کا الزام عائد کیا

امریکہ نے ماسکو میں اپنی ایمبیسی میں ایک سابق اہلکار پر سرکاری ریکارڈ چوری کرنے اور پناہ گزیں کیمپ کے ساتھ دھوکہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ امریکی وزارت قانون نے اس کی اطلاع دی۔ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ 43 سالہ اولسیہ لیونیدونا کراسِلوا پر امریکی حکومت کے ریکارڈ چوری کرنے اور سازش کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ امریکہ نے ایوفس مُوفاک عبد الجبار اور ہیثم عیسیٰ سیڈو سَیڈ پر بھی الزام عائد کیا ہے جو اردن کے عمان میں امریکی شہریت اور امیگریشن سروس میں برسرِکار تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔