بُلی بائی ایپ معاملے میں چوتھی گرفتاری، نیرج سنگھ کو ممبئی پولیس نے اڈیشہ سے پکڑا

ممبئی پولیس کے علاوہ اسی معاملے کی جانچ کر رہی دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے بھی 2 لوگوں کو گرفتار کیا ہے، اس نے معاملے کے اہم ملزم نیرج بشنوئی اور سُلی ڈیل کے اہم ملزم اونکاریشور ٹھاکر کو گرفتار کیا ہے

مہارشٹر پولیس، علامتی تصویر آئی اے این ایس
مہارشٹر پولیس، علامتی تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

سوشل میڈیا پر مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کرنے والے بلی بائی ایپ معاملے میں ممبئی پولیس نے چوتھے ملزم کو اڈیشہ سے گرفتار کیا ہے۔ ملزم کی شناخت نیرج سنگھ کی شکل میں ہوئی ہے۔ ممبئی پولیس کے ایک افسر نے کہا کہ ’’نیرج بُلی بائی ایپ کے ذریعہ سازش کا منصوبہ بنانے اور اسے انجام دینے میں شامل تھا۔ ہم اسے متعلقہ عدالت میں پیش کریں گے اور اس کی کسٹڈی ریمانڈ کا مطالبہ کریں گے۔‘‘

اس سے قبل اس معاملے میں ممبئی پولیس الگ الگ ریاستوں سے وشال جھا، شویتا سنگھ اور مینک راول کو گرفتار کر چکی ہے۔ وہیں دہلی پولیس نے بھی بُلی بائی معاملے میں کچھ لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ ممبئی پولیس اور دہلی پولیس دونوں اس معاملے کی جانچ کر رہی ہیں۔


سب سے پہلے اس معاملے میں ممبئی پولیس نے بنگلورو سے وشال جھا نامی شخص کو گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد 4 جنوری کو اتراکھنڈ باشندہ شویتا سنگھ کو گرفتار کیا گیا۔ وہ دوسری ملزم تھی اور مینک راول مذکورہ تنازعہ کے سلسلہ میں گرفتار کیے گئے تیسرا ملزم تھا۔ ممبئی پولیس کے علاوہ اسی معاملے کی یکساں جانچ کر رہی دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے بھی دو گرفتاریاں کی ہیں۔ اسپیشل سیل نے معاملے کے اہم ملزم نیرج بشنوئی اور سُلی ڈیل کے اہم ملزم اونکاریشور ٹھاکر کو گرفتار کیا ہے۔

واضح رہے کہ یکم جنوری کو بُلی بائی ایپ نے صحافیوں، سماجی کارکنان، طلبا اور مشہور ہستیوں سمیت ایک خاص مذہب کی کئی خواتین کی تصویریں پوسٹ کی تھی۔ یہ سُلی ڈیل کے تنازعہ کے چھ مہینے بعد ہوا۔ وشال جھا بُلی بائی ایپ کے فالوورس میں سے ایک تھا، جس نے پولیس کو ٹیم تک پہنچایا۔


سُلی ڈیلس کو جگہ فراہم کرنے والے گِٹ ہب نے بُلی بائی ایپ کو بھی ہوسٹ کیا۔ حالانکہ بعد میں گِٹ ہب نے یوزر کو اپنے ہوسٹنگ پلیٹ فارم سے ہٹا دیا تھا۔ لیکن تب تک بُلی بائی نے ملک بھر میں تنازعہ کھڑا کر دیا تھا۔ بُلی بائی ایپ کو ایٹ دی ریٹ بُلی بائی نام کے ایک ٹوئٹر ہینڈل کے ذریعہ بھی مشتہر کیا جا رہا تھا، جس میں ایک خالصتانی حامی کی ڈی پی استعمال ہوئی تھی۔ اس ٹوئٹر ہینڈل نے دعویٰ کیا کہ خواتین کو ایپ سے بُک کیا جا سکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔