جیل میں سابق آئی پی ایس امیتابھ ٹھاکر کی بھوک ہڑتال، گرفتاری کے سی سی ٹی وی فوٹیج پر تنازعہ

امیتابھ ٹھاکرکا الزام ہے کہ چیف سیکریٹری جان بوجھ کرفوٹیج غائب کررہے ہیں تاکہ قصوروار پویس اہلکاروں کو بچایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں ملے گی ان کی بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔

امیتابھ ٹھاکر، تصویر آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

 انڈین پولیس سروس(آئی پی ایس) کے سابق افسر امیتابھ ٹھاکر دیوریا جیل میں یکم جنوری سے بھوک ہڑتال کررہے ہیں۔ اس دوران جمعہ کے روز سی جے ایم کورٹ میں پیشی کے دوران انہوں نے شاہجہاں پور سے اپنی گرفتاری کے وقت کا سی سی ٹی وی فوٹیج اورسی ڈی آر فراہم نہ کئے جانے پر سخت احتجاج درج کرایا۔ ٹھاکر نے الزام لگایا ہے کہ چیف سیکریٹری جان بوجھ کرفوٹیج غائب کررہے ہیں تاکہ قصوروار پویس اہلکاروں کو بچایا جاسکے۔ یہ معاملہ 1999 میں تعیناتی کے دوران زمین خرید وفروخت کے سلسلے میں دھوکہ دھڑی کے الزامات سے متعلق ہے۔ پولیس نےانہیں 9-10 دسمبر کی رات شاہجہاں پورمیں ٹرین سے اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ دہلی جارہے تھے۔

عدالتی احاطے میں امیتابھ ٹھاکر نے میڈیا سے کہا کہ انہوں نے چیف سیکریٹری کو خط لکھ اپنی گرفتاری سے متعلق ثبوت مانگے تھے لیکن انہیں پریشان کیا جارہا ہے۔ انہوں نے صاف کہا کہ جب تک سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں ملے گی ان کی بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔ انہیں عدالت پر پورا بھروسہ ہے وہاں سے انصاف ملے گا۔ ٹھاکر کے مطابق گرفتاری کے طریقے اورحقوق انسانی کی خلاف ورزی کی بات رکھنے کے لئے یہ فوٹیج ضروری ہیں۔


ٹھاکر کے وکیل ابھیشیک شرما نے بتایا کہ یہ معاملہ 1999 سے چل رہا ہے لیکن اب تک جانچ میں کچھ ٹھوس نہیں مل پایا ہے۔ وکیل دفاع نے عدالت سے پوری جانچ کی نگرانی کرنے اور جانچ افسر(آئی او) کو دستاویزات کے ساتھ بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے بعد عدالت نے نوٹس لیتے ہوئے جانچ افسر کو ہفتے کے روز ہونے کا حکم دیا تھا۔

1999 سے جاری تنازع کے مطابق امیتابھ ٹھاکر دیوریا میں پولیس سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر تعینات تھے۔ الزام ہے کہ انہوں نے عہدے کا فائدہ اٹھاکر نوتن ٹھار کے نام پر انڈسٹریل ایریا میں زمین الاٹ کرائی اور 2002 میں اسے فروخت کردیا۔ اس سلسلے میں سماجی کارکن سنجے شرما کی شکایت پر درج معاملے میں انہیں دسمبر میں شاہجہاں پور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ تب سے وہ جیل میں ہیں اور ان کی ضمانت عرضی پر سماعت جاری ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔