جارجیا کے سابق صدر ساکاشولی 10 دن سے بھوک ہڑتال پر، حالت نازک

ساکاشولی کے ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ تھیلیسیمیا کی بیماری میں مبتلا ہیں جس میں ہیموگلوبن کی پیداوار کم ہو جاتی ہے، یہ مہلک نہیں ہے لیکن اس میں مبتلا شخص بھوک ہڑتال نہیں کرسکتا۔

میخائل ساکاشولی، تصویر آئی اے این ایس
میخائل ساکاشولی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

تبلیسی: گرفتاری اورخود پر لگائے گئے سنگین الزامات کے خلاف 10 روز سے جیل میں بھوک ہڑتال کر رہے جارجیا کے سابق صدر میخائل ساکاشولی کی حالت نازک ہوگئی ہے۔ ساکاشولی (53) کے ذاتی ڈاکٹر نکولوز کپشیدزے نے اتوار کو متواری ارکی ٹی وی پر کہا کہ ’’ان کی حالت خراب ہو گئی ہے۔ انہیں چلنے میں دشواری ہو رہی ہے، وہ بڑی مشکل سے بولنے کے قابل ہے۔ ان کی اجازت سے میں انکشاف کر رہا ہوں کہ ساکاشولی کو خون کی خرابی تھیلیسیمیا ہے۔‘‘

میخائل ساکاشولی کے ڈاکٹر نے بتایا کہ تھیلیسیمیا ایک ایسی بیماری ہے، جس میں ہیموگلوبن کی پیداوار کم ہو جاتی ہے، یہ مہلک نہیں ہے، لیکن اس میں مبتلا شخص بھوک ہڑتال نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ "میں کل دوبارہ ان سے ملنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ میرے خیال میں ہم شاید انہیں اسپتال میں منتقل کر دیں گے۔ پچھلے دو دنوں میں سابق صدر کی حالت بہت بگڑ گئی ہے اور ان کا وزن بھی کافی کم ہو گیا ہے۔


میخائل ساکاشولی کو یکم اکتوبر کو جارجیا میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ خود پر لگائے گئے الزامات کے خلاف اسی وقت سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ساکاشولی 2004 سے 2013 تک جارجیا کے صدر رہے۔ بعد میں وہ یوکرین کے علاقے اوڈیسا کے گورنر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ایک بینکر کے قتل اور جارجین پارلیمنٹ کے ایک رکن پر حملے میں ان کے مبینہ کردار کے لئے یوکرین واپس آتے ہی انہیں گرفتارکرلیا گیا۔ ان کے خلاف دیگر مقدمات عدالت میں زیر سماعت ہیں۔ انہوں نے تمام الزامات کو سیاست سے متاثر بتایا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔