شمالی کشمیر میں لاشوں کو زبردستی دفن کرنا انسانیت کے خلاف جرم: عمر عبداللہ

عمر عبداللہ کا ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ انہیں ملی ٹنٹ یا ملی ٹنٹ اعانت کار کے طور بدنام کرنا بھی بہت برا ہے لیکن ان کی لاشوں کو شمالی کشمیر میں زبردستی دفن کرنا انسانیت کے خلاف جرم ہے۔

عمر عبداللہ، تصویر یو این آئی
عمر عبداللہ، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے حیدر پورہ انکاؤنٹر میں ہلاک ہونے والے الطاف احمد اور مدثر گل کی لاشیں لواحقین کو واپس دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کو شمالی کشمیر میں زبردستی دفن کرنا انسانیت کے خلاف جرم ہے۔

موصوف سابق وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار بدھ کے روز اپنے ایک ٹوئٹ میں کیا۔ ان کا ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ ’انہیں ملی ٹنٹ یا ملی ٹنٹ اعانت کار کے طور بدنام کرنا بھی بہت برا ہے لیکن ان کی لاشوں کو شمالی کشمیر میں زبردستی دفن کرنا انسانیت کے خلاف جرم ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’لاشوں کو لواحقین کے سپرد کیا جانا چاہئے تاکہ وہ انہیں سپرد خاک کر سکیں، یہی صرف ایک انسانی کام ہوگا‘۔


عمر عبداللہ نے اپنے دوسرے ٹوئٹ میں کہا کہ ’پولیس کا اعتراف ہے کہ انہوں نے مکان مالک (الطاف) اور کرایہ دار (گل) بلڈنگ میں لے گئے اور ان سے دروازہ کھٹکھٹایا تو ان لوگوں کو کیسے ملی ٹنٹ قرار دیا جا سکتا ہے‘۔ ان کا ٹوئٹ میں مزید کہنا تھا کہ ’یہ عام شہری تھے‘۔

بتادیں کہ پولیس کا کہنا ہے کہ حیدر پورہ انکاؤنٹر میں مکان مالک الطاف احمد کی موت کراس فائرنگ کے دوران واقع ہوئی جبکہ مدثر گل ملی ٹنٹ اعانت کار تھا۔ قابل ذکر ہے کہ الطاف احمد اور مدثر گل کے اہلخانہ نے بدھ کے روز یہاں پریس کالونی میں احتجاج درج کیا اور دونوں کو عام شہری قرار دیتے ہوئے ان کی لاشوں کی واپسی کا مطالبہ کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔