بنگال گورنر کے خلاف ترنمول کے 5 اراکین پارلیمنٹ نے صدر جمہوریہ کو لکھا خط

صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کو خط لکھنے والوں میں ممبر پارلیمنٹ سدیپ بندو پادھیائے، ڈیریک اوبرائن، کلیان بنرجی، سکھیندر شیکھر رائے اور کاکولی گھوش دستیدار شامل ہیں۔

صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند، تصویر آئی اے این ایس
صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

کولکاتا: ترنمول کانگریس کے پانچ ممبران پارلیمنٹ جگدیپ دھنکر نے صدر جمہوریہ کو خط لکھ کر گورنر کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر سیاسی تعصب سے کام لے رہے ہیں اور آئین کی کھلے عام خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ صدر جمہوریہ کو خط لکھنے والوں میں ممبر پارلیمنٹ سدیپ بندو پادھیائے، ڈیریک اوبرائن، کلیان بنرجی، سکھیندر شیکھر رائے اور کاکولی گھوش دستیدار نے مشترکہ طور پر دستخط کرکے صدر جمہوریہ کو خط لکھا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ گورنر ریاستی حکومت کی مشنیری کو مسلسل غیرمستحکم کر رہے ہیں۔ گورنر کے خلاف خط ایک ایسے وقت میں لکھا گیا ہے کہ جب اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور بنگال میں سیاسی ماحول تیز ہے۔ گورنر یومیہ بنگال حکومت کے خلاف تنقید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

ممبران پارلیمنٹ نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ گورنر لگاتار وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ترنمو ل کانگریس کے خلاف مسلسل بیانات اور ٹوئٹس کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے لااینڈآرڈر کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اس طرح کے رجحانات ایک آئینی سربراہ کو زیب نہیں دیتا ہے۔ گورنر کا کھلے عام ایک سیاسی جماعت کی حمایت میں اقدام کرنا ملک وفاقی ڈھانچہ کے لئے نقصان دہ ہے۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ گورنر الیکشن کمیشن اور کنٹرولر اور آڈیٹر جنرل جیسے ازادانہ ادرے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


اسی مہینے بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا کے قافلے پر حملے کے بعد گورنر کے ذریعہ اس واقعے پر ممتا بنرجی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرنا نامناسب اور سنگین غلطی ہے۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ گورنر نے ریاستی اسمبلی کو بھی نہیں بخشا ہے۔ مغربی بنگال اسمبلی سے پاس متعدد بلوں پر دستخط کرنے سے وہ انکار کر رہے ہیں۔ وہ نہ صرف بلوں پر دستخط نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ اسپیکر سے بھی وضاحت طلب کرتے ہیں۔ اس کے ذریعہ وہ اسپیکر کے عہدہ کی توہین کر رہے ہیں۔ یہ ریاستی اسمبلی کی خودمختاری کی براہ راست توہین اور حملہ ہے۔

گزشتہ سال جولائی میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ہی گورنر ممتا بنرجی اور ان کی حکومت کے خلاف تنقید کر رہے ہیں۔ دونوں کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ دوسری جانب اس پورے معاملے میں گورنر کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر اپنے آئینی پیرامیٹر کے تحت کام کرتے ہیں۔ ترنمول کانگریس اس سے خوفزدہ ہے۔ کیلاش وجے ورگی نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا ہے کہ ممبران پارلیمنٹ کے خط سے گورنر کو ہٹایا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔