پہلے کسانوں کو جیپ سے کچلا گیا، اور اب قانون کو روندا جا رہا ہے: اکھلیش یادو

اکھلیش یادو نے کہا کہ یوگی حکومت کسانوں کے ساتھ لگاتار تفریق کر رہی ہے، پہلے کسانوں کو جیپ سے کچلا گیا اور اب ملک کے نظم ونسق اور آئین کو روندا جا رہا ہے۔

اکھلیش یادو، تصویر یو این آئی
اکھلیش یادو، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

لکھنؤ: لکھیم پور کھیری تشدد معاملے میں یوپی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے سماجو ادی پارٹی (ایس پی) سربراہ اکھلیش یادو نے کہا کہ پہلے کسانوں کو جیپ سے کچلا گیا اور اب قانون کو روندا جا رہا ہے۔ اکھلیش یادو نے سنیچر کومیڈیا نمائندوں سے کہا کہ لکھیم پور کھیری تشدد معاملے میں نامزد مرکزی مملکتی وزیر اجئے مشر ٹینی کے بیٹے آشیش مشر کو سمن نہیں بلکہ اعزاز سے نوازہ جا رہا ہے۔ اس معاملے کی جانچ میں جان بوجھ کر تاخیر کی جا رہی تاکہ کسانوں کو انصاف نہ مل سکے۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ یوگی حکومت کسانوں کے ساتھ لگاتار تفریق کر رہی ہے۔ پہلے کسانوں کو جیپ سے کچلا گیا اور اب ملک کے نظم ونسق اور آئین کو روندا جا رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ مرکزی وزیر کے استعفی کے بغیر اس معاملے میں غیر جانبدارانہ جانچ نہیں ہوسکتی ہے۔ سپریم کورٹ سے ضرور ملک کے عوام اور کسانوں کو انصاف کی امید ہے۔ اترپردیش میں جنگل راج چل رہا ہے جس کا اختتام 2022 کے اسمبلی انتخابات کے بعد یقیناً ہوگا۔


قابل ذکر ہے کہ گزشتہ اتوار کو لکھیم پور کھیری میں ہوئے تشدد میں چار کسانوں سمیت آٹھ افراد کی موت ہوگئی تھی۔ اس معاملے میں آشیش مشر عرف مونو کو کلیدی ملزم بنایا گیا ہے جو ہفتہ کی صبح لکھیم پور پولیس کی کرائم برانچ کے سامنے پیش ہوئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔