دہلی اسمبلی کے سرمائی اجلاس کا پہلا دن بے بنیاد بحث کی نذر ہو گیا: دیویندر یادو
دیویندر یادو نے کہا کہ ’’سرمائی اجلاس پہلے روز آلودگی کا معاملہ اٹھانے والی عام آدمی پارٹی نے 11 سالہ دور حکومت میں آلودگی پر کنٹرول کرنے کے نام پر ریونیو کی بربادی کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔‘‘

نئی دہلی: دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو کا دہلی اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے متعلق سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمائی اجلاس کا پہلا روز تقریباً بے بنیاد بحث کی نذر ہو گیا اور دہلی کے لوگوں کو آلودگی سے نجات دلانے کے متعلق حکومت نے کوئی ٹھوس منصوبہ تک پیش نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر کے خطاب میں آلودگی پر کنٹرول اور گزشتہ حکومت کی بدعنوانی کے متعلق سی اے جی کی رپورٹ کے بارے کوئی بات نہ کرنا ریکھا گپتا حکومت کی پیروی والا خطاب رہا۔ جبکہ گزشہ 10 ماہ سے دہلی کے اقتدار میں رہتے ہوئے بی جے پی نے عام آدمی پارٹی کی بدعنوانی کے متعلق سی اے جی کی رپورٹ کی بے ضابطگیوں پر کارروائی کر کے تحقیقات تک کا حکم نہ دینا دونوں کی ملی بھگت کو ظاہر کرتا ہے۔
دیویندر یادو نے کہا کہ دہلی اسمبلی کے سرمائی اجلاس کی شروعات میں آلودگی کا معاملہ اٹھانے والی عام آدمی پارٹی نے اپنی 11 سالہ دور حکومت میں آلودگی پر کنٹرول کرنے کے نام پر صرف ریونیو کی بربادی اور اپنے کارکنان کو معاشی فائدہ پہنچانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ بی جے پی کی ریکھا حکومت نے بھی گزشتہ 11 ماہ میں آلودگی کو کنٹرول کرنے کے نام پر صرف کھوکھلے دعوے اور جھوٹی بیان بازی کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ بی جے پی نے کلاؤڈ سیڈنگ جیسی ناکام کوشش پر ریونیو کا نقصان ضرور کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کے ذریعہ بچی ہوئی سی اے جی رپورٹ کو ایوان کے سامنے رکھنا چاہیے اور ایوان کے ذریعہ دہلی کے عوام کو بتائیں کہ ایوان میں پیش کیے گئے شراب گھوٹالے، شیش محل، محلہ کلینک سمیت دیگر معاملوں کی سی اے جی رپورٹ پر اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے۔
دہلی کانگریس صدر نے کہا کہ سرمائی اجلاس میں وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کے ذریعہ خطرناک حد تک بڑھ چکی فضائی آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی خصوصی جوابدہی طے نہ کر پانا اپنی ناکامی کو چھپانے کے متردف ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں سب سے زیادہ آلودگی والے شہر میں رہنے والے لوگوں کے سامنے صحت سے متعلق سنگین مسائل کھڑے ہیں۔ جہاں ایک طرف ماہر ماحولیات اور لوگوں کو صحت کی حفاظت کے لیے دہلی چھوڑنے کا مشورہ دے رہے ہیں، وہیں دوسری جانب حکومت آلودگی کنٹرول کرنے کے نام پر اسکولوں کو بند کرنے اور اپنے دفاتر کی صلاحیت کو 50 فیصد تک کم کرنے جیسے ناکام اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت کو گھروں سے باہر نکلنے اور کھلے میں کام کرنے والوں کے متعلق کوئی فکر نہیں ہے، جو ہر سانس کے ساتھ زہر کو اپنی جسم میں داخل کر رہے ہیں۔
کانگریس لیڈر کا کہنا ہے کہ دہلی کی بدحال صحت کی خدمات کو بہتر کرنے کے لیے ایک لاکھ کروڑ کے بجٹ کا 13 فیصد صحت کی خدمات پر لگانے کا مطلب صاف ہے کہ زیادہ تر رقم پرائیویٹ کمپنیوں میں جا رہی ہے۔ پی پی پی ماڈل پر بی جے پی حکومت مریضوں کو سہولیات فراہم کرنے کی جگہ کمپنیوں کو کیا کیا کام دیے گئے ہیں ان کے متعلق باتیں کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ پی پی پی ماڈل کے تحت 11 نئے اسپتال چلانے کے منصوبے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریکھا حکومت بھی مودی حکومت کی طرح سرکاری اداروں کو پرائیویٹ ہاتھوں میں سونپنے کی تیاری کر رہی ہے۔ جمنا کی صفائی، سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس، چھوٹے اور بڑے نالوں کی صفائی، ایس ٹی پی کی صلاحیت میں اضافہ، اور آلودگی پر قابو پانے کے لیے ہولمبی کلاں میں دہلی کا پہلا ای ویسٹ پلانٹ قائم کرنا بھی نجی کمپنیوں کے لیے قائم کرنے کی راہ ہموار کی گئی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔