قومی

وائناڈ پارلیمانی سیٹ پر راہل کے خلاف بی جے پی نے ڈالا ہتھیار

بی جے پی نے کیرالہ کی وائناڈ سیٹ سے ایک غیر معروف امیدوار کو راہل گاندھی کے خلاف میدان میں اتارنے کا اعلان کیا ہے۔ اس قدم سے صاف ہے کہ بی جے پی نے اس سیٹ پر الیکشن سے پہلے ہی ہتھیار ڈال دئیے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا

ایشلن میتھیو

راہل گاندھی کے کیرالہ کی وائناڈ سیٹ سے بھی انتخاب لڑنے کے اعلان کے بعد دوسری پارٹیوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ سب سے زیادہ نظریں اس بات پر مرکوز تھیں کہ آخر راہل گاندھی کے خلاف این ڈی اے یعنی بی جے پی کسے میدان میں اتارے گی۔ اتوار کے بعد سے ہی کئی ناموں کو لے کر بحث تھی۔ آخر کار بی جے پی صدر امت شاہ نے پیر کی دوپہر اعلان کر دیا کہ وائناڈ سے بی جے پی کی معاون بھارت دھرم جن سینا کے صدر تشار ویلاپلی میدان میں اتریں گے۔

بی جے پی نے یہ سیٹ ابھی 20 مارچ کو ہی بھارت دھرم جن سینا کو دی تھی، لیکن اس بات سے متعلق قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ اگر راہل گاندھی وہاں سے میدان میں اترتے ہیں تو ان کے سامنے ایک مضبوط امیدوار کو اتارا جائے گا۔ لیکن ایسا ہوا نہیں اور تشار ویلاپلّی جیسے غیر معروف لیڈر کو میدان میں اتارنے کا اعلان کر دیا گیا۔ ویلاپلی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ تاجر ہیں جن کا کاروبار دوبئی میں ہے۔ انھیں میدان میں اتارے جانے کے بعد صاف ہو گیا ہے کہ این ڈی اے کے پاس راہل گاندھی کے خلاف کوئی مضبوط امیدوار ہے ہی نہیں۔

غور طلب ہے کہ 2014 کے لوک سبھا انتخاب میں بھارت دھرم جن سینا کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ اس پارٹی کا قیام دسمبر 2015 میں ہوا تھا۔ اس کی جڑیں کیرالہ کے ایک پسماندہ طبقے ایجھاوا کے لیے کام کرنے والے ایک سماجی تنظیم سے جڑی ہیں۔ جب یہ پارٹی بنی تو اس کے جنرل سکریٹری اور تشار ویلاپلی کے والد ویلاپلی ناتیسن نے کہا تھا کہ ’’ان کی پارٹی ایک سیکولر پارٹی ہے۔ پارٹی کا مقصد ملک میں ہندو راشٹر بنانا نہیں ہے۔‘‘ دھیان دینے کی بات ہے کہ کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پی وجین ایجھاوا طبقہ سے ہی آتے ہیں۔

2016 کے اسمبلی انتخاب میں بھارتیہ دھرم جن سینا نے حصہ لیا تھا لیکن کوئی بھی سیٹ نہیں جیت پائی تھی۔ پارٹی نے ریاست کی کل 140 سیٹوں میں سے 36 پر اپنے امیدوار اتارے تھے۔ اسے 4 فیصد سے بھی کم ووٹ ملے تھے۔ ویسے یہاں یہ بتانا لازمی ہے کہ وائناڈ کی آبادی کو لے کر زبردست غلط فہمی لوگوں میں پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وائناڈ کی کل آبادی کا 49.7 فیصد ہندو ہیں جب کہ 28.8 فیصد مسلم اور 21.5 فیصد عیسائی ہیں۔ ہندوؤں کی کل آبادی میں سے 45.4 فیصد درج فہرست ذات اور قبائل کے لوگ ہیں۔ اس سیٹ پر ایجھاوا طبقہ کی آبادی محض 3.5 فیصد ہے۔

گزشتہ سال تشار ویلاپلی کے والد ناتیسن نے سبریمالہ ایشو پر سبریمالہ کرما سمیتی سے منسلک رائٹ وِنگ گروپوں کی تلخ تنقید کی تھی۔ انھوں نے کرما سمیتی کے اس رخ سے اعتراض ظاہر کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ سبریمالہ کی صدیوں پرانی روایت کی حفاظت کی جانی چاہیے۔ انھوں نے وزیر اعلیٰ پی وجین کی دعوت پر بنی ’خاتون زنجیر‘ کی بھی حمایت کی تھی۔

وائناڈ سیٹ پر 2014 اور 2009 میں کانگریس کے ایم آئی شناواس نے فتح حاصل کی تھی۔ انھوں نے سی پی آئی کے امیدوار کو ہرایا تھا۔ نومبر 2018 میں شناواس کی موت کے بعد سے یہ سیٹ خالی ہے۔ بہر حال، ان اعداد و شمار کے باوجود کسی بھگوادھاری کی جگہ ایک نوآموز کو راہل گاندھی کے سامنے اتارنے سے صاف ہو گیا ہے کہ بی جے پی اور اس کے معاون وائناڈ سے پیچھا چھڑا رہے ہیں۔