فرخ آباد: 23 بچوں کو یرغمال بنانے والے سبھاش کی پولس تصادم میں موت، لوگوں کی پٹائی سے بیوی بھی ہلاک

جمعرات کی دیر رات تصادم میں پولس نے سبھاش باتھم کو ہلاک کر دیا۔ اس خصوصی آپریشن کی کامیابی کے بعد یوگی آدتیہ ناتھ نے پولس ٹیم کو 10 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ایک طرف اتر پردیش کے ضلع فرخ آباد میں 23 بچوں کو یرغمال بنانے والے شخص سبھاش باتھم کو تقریباً 11 گھنٹے کے ہائی وولٹیج ڈرامے کے بعد جمعرات کی دیر رات پولس نے موت کی نیند سلا دیا، اور دوسری طرف اس پورے واقعہ سے ناراض لوگوں نے سبھاش کی بیوی کی زبردست پٹائی کر دی جس کا انتقال علاج کے دوران اسپتال میں ہو گیا۔ اس پورے واقعہ سے فرخ آباد ضلع کے کسریا گاؤں میں ایک ہنگامہ سا اب بھی برپا نظر آ رہا ہے لیکن پولس چین کی سانس لے رہی ہے کیونکہ سبھی بچے بحفاظت اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔

میڈیا ذرائع کے مطابق ملزم سبھاش اور پولس کے درمیان جمعرات کی شب کافی دیر تک تصادم ہوا جس کے بعد ملزم کو ہلاک کر دیا گیا۔ اغوا کیے گئے بچوں کو محفوظ بچائے جانے سے خوش وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس خاص آپریشن میں شامل پولس ٹیم کو 10 لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔

سبھاش کے مارے جانے کے بعد دیر رات میڈیا کو دیے بیان میں اتر پردیش ایڈیشنل چیف سکریٹری برائے داخلہ اونیش کمار اوستھی نے بتایا کہ ’’سبھی بچوں کو محفوظ بچا لیا گیا ہے۔ گھر کے اندر بچوں کو یرغمال بنے ہونے کی وہج سے آپریشن میں زیادہ وقت لگا۔ سبھی بچے پوری طرح سے محفوظ ہیں۔ پولس نے تصادم کے بعد ملزم سبھاش باتھم کو مار گرایا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہمیں خوشی ہے کہ اس آپریشن کو کامیابی کے ساتھ پورا کر لیا گیا۔‘‘

دوسری طرف سبھاش باتھم کے ذریعہ 23 بچوں کو یرغمال بنائے جانے سے ناراض مقامی لوگوں نے جمعرات کے روز ہی اس کی بیوی روبی کی بے رحمی کے ساتھ پٹائی کر دی۔ خبروں کے مطابق اسے سنگین حالت میں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی۔ اس واقعہ کے تعلق سے کانپور رینج کے آئی جی موہت اگروال نے کہا کہ ’’خاتون کو کافی چوٹیں آئی تھیں جس کی وجہ سے اس کی موت ہونے کی بات کہی جا رہی ہے۔ ہم پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں، موت کے اصل اسباب کے بارے میں رپورٹ آنے کے بعد ہی بتایا جا سکے گا۔‘‘

بچوں کو یرغمال بنائے جانے والے واقعہ کے تعلق سے تفصیل بتاتے ہوئے پولس سپرنٹنڈنٹ انل کمار مشرا نے جمعہ کو بتایا کہ تقریباً 11 گھنٹوں تک یرغمال بنائے گئے 23 بچوں کودیر رات بحفاظت رہا کرا لیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پولس کی اولین ترجیح سبھی یرغمال بچوں کو بحفاظت باہر نکالنا تھا۔ اسی سلسلے میں پولیس نے دیر رات سبھاش کے گھر کا دروازہ توڑ دیا۔ اس پر وہاں موجود بھیڑ نے بدمعاش سبھاش باتھم کو پکڑنا چاہا تو وہ گھر میں بھاگا تبھی پیچھے سے پولس بھی اندر گھس گئی اور جوابی فائرنگ میں پولیس کی گولی لگنے سے سبھاش ہلاک ہوگیا۔ اس کے بعد پولیس نے گھر میں بنے تہہ خانے میں یرغمال بنا کر رکھے گئے سبھی بچوں کو بحفاظت باہر نکالا۔

انل کمار مشرا کا کہنا ہے کہ بدمعاش سبھاش باتھم کی جانب سے پھینکے گئے دستی بم اور فائرنگ کی وجہ سے ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ، ڈپٹی پولیس سپرنٹنڈنٹ، سواٹ ٹیم کے انچارج، محمد آباد تھانہ انچارج انسپکٹر سمیت متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سبھاش نے جمعرات تقریباً ساڑھے تین بجے اپنی بیٹی گوری کی سالگرہ کے بہانے گاؤں کے 23 بچوں کو اپنے گھر بلاکر سبھی کو یرغمال بنالیا تھا۔ اس کی بیوی اور بچی سمیت 25 لوگ گھر کے اندر موجود تھے۔

پولس سپرنٹنڈنٹ کے مطابق بہت دیر تک جب بچے گھر نہیں لوٹے توپڑوسی سبھاش کے گھر پہنچے جہاں اس نے فائرنگ شروع کردی اور چلا چلا کر گاؤں والوں پر پھنسانے کا الزام لگانے لگا۔ بچوں کو چھڑانےپہنچے کوتوالی انچارج راکیش کمار اور یوپی 112 کی ٹیم پر اس نے گھر کے اندر سے بم پھینکا جس کی وجہ سے راکیش کمار، یوپی -112 کے دیوان جے ویر سنگھ اور کانسٹیبل انل کمار زخمی ہو گئے۔ پولیس و سواٹ ٹیم نے متعدد گھروں کی چھتوں کا محاصرے کر رکھا ہے۔ علاقائی ممبر اسمبلی ناگیندر سنگھ اور انہوں نے خود لاؤڈ اسپیکر سے باہر آنے کو کہا تو وہ گالیاں دینے لگا۔

انل کمار مشرا کا کہنا ہے کہ اسی درمیان جب گاؤں کا ہی باتھم کا دوست انوپم دوبے عرف بالو سمجھانے گیا تو اس نے دروازے کے نیچے سے گولی چلادی جو بالو کے پیر میں لگی۔ اندر سے شاطر یہی چلا چلا کر کہہ رہا تھا کہ جھوٹے کیس میں جیل بھجوائے تھے اب جھیلو ۔ گھر میں قید بچوں کے گھروالوں کا رو ۔ رو کر برا حال تھا اور اندر سے بچوں کی کوئی آواز بھی نہیں آرہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ بچوں کو بحفاظت باہر نکالنا پولیس اور انتظامیہ کی اولین ترجیح تھی۔

واضح رہے کہ وزیراعلی یوگی آدیتہ ناتھ نے اس معاملے کی اطلاع ملتے ہی ڈائریکٹر جنرل آف پولیس او پی سنگھ سمیت دیگر سینئر پولیس افسران کو طلب کیا اور بچوں کو بحفاظت باہر نکالنے اور بدمعاش کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا حکم دیا۔ بدمعاش سے نپٹنے کے لئے انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) کے کمانڈوز فرخ آباد روانہ کئے گئے۔ ڈی جی پی کی ہدایت پر زون کے آئی جی موہت اگروال بھی دیر رات فرخ آباد پہنچ گئے تھےلیكن كماڈو کے وہاں پہنچنے کے پہلے ہی پولیس نے بچوں کو بحفاظت رہا کرا لیا تھا۔

غورطلب بات یہ ہے کہ بدمعاش سبھاش نے 2001 میں گاؤں کے میگھ ناتھ باتھم کو گولی مار کر قتل کردیا تھا جس کی وجہ سے اسے عمرقید کی سزا ہوئی لیکن وہ سپریم کورٹ سے ضمانت پر رہا ہوگیا تھا۔ تین ماہ قبل وہ چوری کے الزام میں پکڑا گیا تھا اور ڈیڑھ ماہ بعد وہ پھر جیل سے چھوٹ کر گھر آگیا تھا۔ پولیس سے پکڑوانے کی رنجش میں گاؤں والوں کو سبق سکھانے کے لئے اس نے سالگرہ کے نام پر کل شام 24 بچوں کو اپنے گھر بلا کر یرغمال بنایا لیا تھا۔

Published: 31 Jan 2020, 10:11 AM